Connect with us

تازہ ترین

قربانی

Muhammad Maqsood Khan Advocate

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ

عید الاضحیٰ کی صبح اتر رہی ہے۔
فضا میں تکبیر کی آوازیں گونج رہی ہیں۔
“اللہ اکبر…
اللہ اکبر…”

گلیوں میں نئے کپڑوں میں ملبوس بچے خوشی سے جھوم رہے ہیں۔
ہر دروازے پر قربانی کے جانور بندھے ہیں،
کہیں چھریاں تیز ہو رہی ہیں،
کہیں دیگیں چڑھائی جا رہی ہیں۔ کہیں موبائل فونز ہر یہ مناظر محفوظ کئے جا رہے ہیں۔

مگر———-
اسی گہما گہمی کے بیچ شہر کے پرانے حصے میں ایک چھوٹا سا گھر خاموش پڑا ہے۔
صحن میں حاجی عبدالرحمن بیٹھے ہیں۔
سفید ٹوپی ان کے ہاتھ میں ہے۔ نظریں آسمان پر جمی ہیں۔
سامنے آم کے درخت سے بندھا سفید دنبہ بار بار انہیں دیکھ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے دونوں کسی ایک خاموش دکھ میں شریک ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹھنڈے ہال، جلتے لوگ

اسی لمحے حاجی عبدالرحمن کی بہو صائمہ صحن میں آتی ہے۔
“ابو جی… سب لوگ عید گاہ جا چکے ہیں۔ آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئے؟”
عبدالرحمن چونکتے ہیں۔
“ہاں بیٹی… بس ابھی جاتا ہوں…”

مگر آواز میں وہ کھنک نہیں ہے جو پچھلی عیدوں پر ہوا کرتی تھی۔
صائمہ رک جاتی ہے۔
“آپ رات بھر سوئے نہیں ہیں نا؟”
عبدالرحمن ہلکا سا مسکراتے ہیں۔
“کچھ قربانیاں انسان کو سونے نہیں دیتیں، بیٹی…”

صائمہ حیرت سے انہیں دیکھتی رہ جاتی ہے۔ اسے ان کی بات سمجھ نہیں آتی ‘
اسی لمحے ان کا بیٹا فہد بھی وہاں آ جاتا ہے_
قیمتی لباس،
ہاتھ میں نئے ماڈل کا آئی فون، چہرے پر عجلت ،
“ابو! جلدی کریں نماز کے لئے”، وہ ایک ہی سانس میں بولے جا رہا ہے "اس بار قربانی کی ویڈیو اچھی بننی چاہیے۔ پچھلے سال مزا نہیں آیا، ویوز بہت کم آئے تھے…”

عبدالرحمن کے چہرے پر ایک سایہ سا اتر جاتا ہے۔
وہ آہستگی سے پوچھتے ہیں:
“فہد بیٹے… تم قربانی اللہ کے لیے کرتے ہو یا لوگوں کے لیے؟”
فہد ہنس دیتا ہے۔

“ابو! زمانہ بدل گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں سب دکھانا پڑتا ہے ورنہ لوگ متاثر نہیں ہوتے…”
عبدالرحمن خاموش ہو جاتے ہیں۔
اور اچانک ان کے ذہن میں ماضی کا منظر ابھرتا ہے —

یہ بھی پڑھیں: ویسٹ منسٹر کے ایوانوں میں اترتی بغاوت

دس برس پہلے ———
عید الاضحیٰ کا ہی ایک دن ہے۔
فہد صرف دس برس کا ہے۔
گھر میں آسودگی نہیں –

عبدالرحمن بمشکل ایک دبلا پتلا سا بکرا خرید کر لاتے ہیں تاکہ قربانی کا فریضہ ادا کر سکیں-
دس برس کے معصوم فہد کو اس بکرے سے بے پناہ محبت ہو چلی ہے۔
وہ پیار سے بکرے کو “چاند” کہہ کر پکارتا ہے۔
اسے اپنے ہاتھوں سے چارہ کھلاتا ہے۔
اس کے گلے میں نیلا ربن باندھتا ہے۔ رات کو سونے سے پہلے بھی اسے بار بار دیکھنے جاتا ہے۔

عید سے ایک رات قبل وہ روتا ہوا عبدالرحمن کے پاس آتا ہے۔
“ابو… چاند کو ذبح نہ کرنا… وہ میرا پیارا دوست ہے، میں اس کی جدائی سہہ نہیں سکوں گا…”
عبدالرحمن بیٹے کو سینے سے لگا لیتے ہیں۔
ان کی اپنی آنکھیں بھیگنے لگتی ہیں۔

وہ دھیرے سے کہتے ہیں:
“بیٹا… اللہ کبھی کبھی انسان سے وہ چیز مانگتا ہے جو اسے سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے…”
فہد معصوم آنکھوں سے پوچھتا ہے:
“لیکن ابو…کیا اللہ کو ہمارا دکھ نہیں محسوس ہوتا؟”

یہ سوال سن کر عبدالرحمن کا دل کانپ اٹھتا ہے۔
وہ فہد کے گال سہلاتے ہیں۔
“ہوتا ہے بیٹا… ضرور ہوتا ہے… مگر اللہ قربانی کے بہانے ہمارا جانور نہیں، ہمارا دل دیکھتا ہے…”

اگلی صبح “چاند” ذبح ہوتا ہے۔
فہد صحن کے کونے میں اداس بیٹھا دیر تک روتا رہتا ہے۔ وہ "چاند” سے بچھڑنے کے دکھ میں سارا دن بھوکا رہتا ہے—

مگر ———-
شام کے وقت عبدالرحمن ایک عجیب منظر دیکھتے ہیں۔
فہد اپنا نیا عید کا سوٹ گلی کے ایک یتیم بچے کو دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دل کے شہر میں اترتی روشنی

عبدالرحمن حیرت ذدہ آنکھوں سے استفسار کرتے ہیں۔
“بیٹا! یہ تو تمہارا نیا سوٹ ہے عید کا- اسے کیوں دے رہے ہو؟ تمہیں پسند نہیں آیا؟”
“ ابو! آپ ہی تو کہتے ہیں نا کہ اللہ دل دیکھتا ہے…” وہ اپنی نم پلکوں کو پونچھتے ہوئے کہتا ہے- عبد الرحمن فرط انبساط سے فہد کی پیشانی چوم لیتے ہیں—–

اور آج دس برس کے بعد ————
فہد جوان ہو چکا ہے۔
مگر ۔۔۔۔۔
قربانی کا اصل مطلب شاید کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔

عیدگاہ میں نماز کی ادائیگی کے بعد عبدالرحمن اور فہد گھر واپس آتے ہیں۔
سفید دنبہ صحن میں آم کے درخت کے تنے سےبندھا ہوا ہے- فہد دنبے کے ساتھ کھڑا ہو کر لبوں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے وڈیو بنوا رہا ہے- "بھائی! ذرا اچھی وڈیو بنانا”۔۔۔ اس کے ارد گرد گلی کے بچےخوشی سے چہک رہے ہیں۔

اسی دوران ایک بوڑھا فقیر دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے۔
پچکے ہوئے گال،
اندر دھنسی ہوئی آنکھیں،
کمر کمان کی طرح جھکی ہوئی،

وہ نحیف و نزار آواز میں کہتا ہے:
“بیٹا… ایک سال سے گوشت نہیں کھایا۔۔۔۔۔۔”
فہد جھنجھلاتے ہوئے کہتا ہے۔
“بابا! بعد میں آنا…”

فقیر خاموشی سے پلٹ جاتا ہے۔
عبدالرحمن یہ منظر دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے۔
وہ آہستہ سے فہد کے قریب آتے ہیں۔
“بیٹا… ایک بات پوچھوں؟”

فہد بے دلی سے موبائل سے نظریں اٹھاتا ہے۔
“جی ابو…”
عبدالرحمن کی آواز لرزنے لگتی ہے۔
“آج تم جانور ذبح کر رہے ہو… مگر ۔۔۔۔۔ اپنی انا کب ذبح کرو گے؟”

فضا اچانک خاموش ہو جاتی ہے۔
"تمہیں معلوم ہے کہ قربانی کیا ہے؟”
فہد کے ہاتھ کانپتے ہیں
وہ نظر یں جھکا لیتا ہے۔

عبدالرحمن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔
“قربانی صرف اسماعیلؑ کے گلے پر چھری رکھنے کا نام نہیں بیٹا…
قربانی ابراہیمؑ کے دل پر چھری چلانے کا نام ہے…”

فہد کے ہاتھ سے موبائل نیچے گر جاتا ہے۔
عبدالرحمن بولے چلے جاتے ہیں:
“جانور تو ہر دور میں ذبح ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے…
مگر سوال یہ ہے کہ
اپنے غرور،
اپنی نمائش،
اپنی خودغرضی،
انہیں کون اور کب ذبح کرے گا؟”

فہد کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگتے ہیں۔
اور——-
اچانک اسے اپنا بچپن یاد آنے لگتا ہے۔
وہی “چاند”…
وہی یتیم بچہ…
وہی ابو کی بات:
“اللہ دل دیکھتا ہے…”
اس کی آواز ٹوٹ جاتی ہے۔

“ابو… شاید میں دنیا داری میں حقیقی عید کھو بیٹھا ہوں…”
عبدالرحمن آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیتے ہیں۔
“نہیں بیٹا جی… جس دن انسان اپنی غلطی پر رو دیتا ہے،
اسی دن اللہ اس کے دل میں دوبارہ حقیقی عید اتار دیتا ہے…”

یہ بھی پڑھیں: بے حس معاشرے کا اعلانِ وفات

فہد فوراً دروازے کی طرف دوڑتا ہے۔
فقیر ابھی گلی کے موڑ تک پہنچا ہے۔
“بابا… رک جائیں…”
بوڑھا فقیر پلٹتا ہے۔

فہد آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔
“آج آپ ہمارے ساتھ جی بھر کر گوشت کھائیں گے…”
فقیر کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

صحن میں کھڑے عبدالرحمن پہلی بار مسکراتے ہیں۔
آسمان پر پھر تکبیر گونجتی ہے:
“اللہ اکبر… اللہ اکبر…”
اور اسی لمحے،
ایک جانور کے ساتھ،
ایک انسان کی انا بھی ذبح ہو جاتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

FGEHA Signs MOU with UBL FGEHA Signs MOU with UBL
پاکستان2 گھنٹے ago

فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (UBL) کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ...

Fighter Plane Fighter Plane
تازہ ترین4 گھنٹے ago

شمالی ایران میں دشمن طیاروں کی رہنمائی کیلئے استعمال ہونیوالا سازوسامان برآمد: ایرانی میڈیا

تہران (صدائے سچ نیوز) ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے شمالی صوبے مازندران کے ضلع تنکابن کے  پہاڑی علاقوں سے...

Secretary Housing Visited F-14 Secretary Housing Visited F-14
پاکستان1 دن ago

سیکرٹری ہاؤسنگ کا F-14، F-15 کا دورہ، تجاوزات کے خاتمے اور ترقیاتی کاموں میں تیزی کا حکم

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز)سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود نے ڈی جی ایف جی ای ایچ اے...

Shameem Haider Syed Shameem Haider Syed
تازہ ترین1 دن ago

مسلسل اسرائیلی جارحیت کے سبب دنیا کا امن ایک مرتبہ پھر دائو پر لگ گیا

تحریر :شمیم حیدر سید لبنان پر اسرائیل جارحیت اور مستقل بمباری نے دنیا کا امن ایک مرتبہ پھر دائو پر...

Gold Jewellery Gold Jewellery
پاکستان1 دن ago

ملک بھر میں سونے کی قیمتیں گراوٹ کا شکار

کراچی (صدائے سچ نیوز) ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں گراوٹ کا شکار ہیں۔ آل پاکستان صرافہ...

Missile Attack Missile Attack
تازہ ترین1 دن ago

یمنی حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل داغنے کی ویڈیو جاری کردی

یمن کے حوثی گروپ نے آج اسرائیل پر میزائل داغنے کی ویڈیو جاری کردی۔ حوثیوں کی جانب سے ’فلسطین2‘ ہائپر...

Attack Site Attack Site
تازہ ترین2 دن ago

ٹرمپ کے منع کرنے کے باوجود اسرائیل کا ایران پر حملہ، تبریز اور اصفہان میں متعدد دھماکے

واشنگٹن (صدائے سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل کے باوجود اسرائیل نے  ایران پر جوابی حملہ کر دیا۔...

Advsior to Supreme Leader Mohsin Razai Advsior to Supreme Leader Mohsin Razai
تازہ ترین2 دن ago

خبردار کیا تھا کہ لبنان پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے: اسرائیل پر میزائل داغنے کے بعد ایرانی عہدیدار کا بیان

تہران (صدائے سچ نیوز) ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغنے...

Iran missile attack Iran missile attack
تازہ ترین2 دن ago

بیروت پر حملوں کا جواب، ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیے

تہران (صدائے سچ نیوز) ایران نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملوں کے جواب میں  اسرائیل پر میزائل داغ دیے۔...

Nisar Hussain Nisar Hussain
تازہ ترین2 دن ago

میلبورن میں علم، خدمت اور قومی وقار کی روشن شام

تحریر: نثار حسین میلبورن کی سرد مگر دل آویز شام اُس وقت علم، وقار اور خدمتِ انسانیت کی ایک خوبصورت...

Trending