تازہ ترین
صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات، ثالثی کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ
تحریر :شمیم حیدرسید
پاکستان نے انتہائی کشیدہ صورتحال میں بھی اپنی ثالثی کی کوششوں کو جاری رکھا ہوا ہے۔جس کی پوری دنیا تائید اور حمایت کر رہی ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی مختلف شقوں کا تبادلہ اور اُن میں موجود دونوں ممالک کی جانب سے اعترازات اور پھر اُن میں تبدیلیوں کے عمل میں پاکستان اپنی پوری دلجمعی سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔اس سلسلے میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کا دورہ کیا اور اب دنوں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ایران کا مختصر اور اہم دورہ کیا اور اپنے دورے میں ایران کے صدر، اسپیکر اور وزیر خارجہ سے اہم ملاقاتیں کیں اور جنگ بندی کیلئے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کیلئے بامقصد بات چیت کی۔
اس سلسلے میں امریکہ چین یورپی ممالک اور عرب ممالک کی حمایت حاصل رہی ۔ انہوں نے اس دوران فریقین کے ساتھ رابطے بھی کیے۔جس کے سبب تعمیری بات چیت کے ذریعے حتمی معاہدے کے قریب پہنچنے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کی۔اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنی پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ پاکستان ثالثی کیلئے ہمارا بااعتماد ساتھی ہے اور ایران پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔شدید ترین حالات میں بھی پاکستان نے اپنی ثالثی کی کوششوں کو ترک نہیں کیا بلکہ جاری رکھا۔ ایرانی قیادت نے تنازعہ کے حل کیلئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں اور کاوشوں کو سراہا ۔
ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ہمیں دکھ ہے اُن ممالک پر جنہیں ہم نے اپنا دوست سمجھا اور انہوں نے اپنی سرزمین ہمارے خلاف حملوں کیلئے ہمارے دشمنوں کے حوالے کی۔ہم اب تک یہ جنگ اپنے دفاع میں لڑ رہے ہیں ۔ ہم کسی بھی ملک کے خلاف کبھی بھی جارحیت کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔لیکن اگر ہم پر کہیں سے بھی حملے ہوں گے تو ہم اس کا بھر پور جواب ضرور دیں گے اور یہ ہمارا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ صورتحال یہی رہی یا ہم پر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی یا جارحیت کا ارتکاب کیا گیا تو ایران آئندہ زیادہ قوت سے اور پورے جوش ایمانی کے ساتھ سخت ردعمل دے گا۔
دوسری جانب اسرائیل جارحیت کسی صورت روکنے کا نام نہیں لے رہے ۔لبنان ، فلسطین اور غزہ پر جنگ بندی کے باوجود ڈھٹائی کے ساتھ مسلسل حملے اقوام متحدہ اور دنیا بھر کے منہ پر طمانچہ ہے۔ان حملوں کے نتیجے میں بچی کچی عمارات اور بھوکے پیاسے لوگوں کا قتل عام روز کا معمول بنا ہوا ہے۔
دنیا اس کی مذمت تو کر رہی ہے اور اقوام متحدہ میں قرار دادیں بھی پیش کی جا رہی ہیں۔مگر امریکی سرپرستی میں اسرائیل اپنی جارحیت اور دہشتگردی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔اس ساری صورتحال پر اقوام متحدہ اب بھی خوش رہی تو پھر اسرائیل جارحیت ، ظلم اور بے گناہ لوگوں کے قتل عام کو کون روکے گا۔یہ تو ثابت ہو چکا کہ اسرائیل دہشتگرد ملک ہے۔ جس نے پوری دنیا کی مذمت اور منع کرنے کے باوجود غزہ کے 70فیصد حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔
لبنان پر مسلسل بمباری کرتے ہوئے لبنان کی آزادی اور خود مختاری کو پامال کرتے ہوئے لبنان کے اندر داخل ہو گیا ہے اور اس نے صلیبی جنگوں کے دورن کے الشقیف قلعے پر قبضہ کر کے اپنا جھنڈا لہرا دیا ہے۔جسے 1190میں صلاح الدین ایوبی نے فتح کیا تھا۔ نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ ہم لبنان میں مزید کارروائیاں کریں گے جو کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن کے دعووں کے منافی ہے۔اس وقت لاکھوں فلسطینی افراد اسرائیل کی قید میں ہیں ۔ اور اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں اور آئے دِن پھانسیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسرائیل کی بدمعاشی کی ایک تصویر یہ بھی دیکھی جس میں غزہ میں امدادی سامان لے جانے والے فلوٹیلا کے اوپر فائرنگ اور بعد میں اس پر قبضہ کر کے جس طرح سماجی کارکنوں کو گرفتاری کیا گیا اِن کو ہتھکڑیوں سے جھکڑ کر زمین پر بیٹھایا گیا بات یہی نہیں ختم ہوتی ۔ بلکہ اسرائیل وزیر نے ان قیدیوں کے درمیان آ کر ان کا جس طرح تمسخر اُڑایا اس کے بعد بھی دنیا بھر کی خاموشی ،انسانی حقوق پر سوالیہ نشان ہے۔ویسے تو اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے اس عمل کو توہین آمیز قرار دیا مگر اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی جا سکی۔
اب ہم پھر آتے ہیں کہ امریکہ ایران کے درمیان پاکستانی سفارتکاری کتنی موثر ہو گی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتاامریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئے دِن بدلتے اور دھمکی آمیز بیانات کی وجہ سے بھنور میں پھنسی کشتی کنارے نہیں لگ رہی۔
وہ آئے دِن ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور بمباوں کی برسات کا ڈراوا دے رہے ہیں اور ایران کے خلاف غیر مہذب اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کر رہے ہیں۔جس پر امریکی عوام بھی اس کو ناپسندیدگی سے دیکھتے ہوئے احتجاج کر رہی ہے۔امریکہ میں اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں دن بہ دن کمی ہوتی جا رہی ہے اور وہ اب سیاسی دبائو کا شکار ہیں۔
ایرانی قیادت اور عوام اُن کی گیدڑ بھبھکیوں کا ذرا بھی اثر نہیں لے رہے۔دنیا نے دیکھا کے جنگ کے اس ماحول میں جس طرح تہران میں اجتماعی شادی کا شاندار پروگرام ترتیب دیا گیا اور روزانہ کی بنیاد پر تمام بڑے شہروں میں رات کے وقت عوامی اجتماعات نے امریکہ ہی نہیں دنیا بھر کو ورطہ حیرت میں ڈالا ہوا ہے۔
یہی وہ عوامی قوت اور طاقت ہے جس نے ایرانی قیادت کو قوت اور استحکام بخشا ہوا ہے اور وہ ایک سپر پاورکے مقابلے پر پورے قد سے کھڑے ہیںاور بلا کسی خوف و خطر کے ان کو اپنی شرائط پر معاہدہ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنی عوام کو دھوکا دے رہے ہیں۔
اُن کا یہ کہنا ہے کہ میں اس معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں سب کچھ حاصل ہو جھوٹی فتح دکھانے کی ناکام کوشش ہے۔ ایرانی حکومتی ترجمان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی گیدڑ بھبھکیوں کا ایرانی قیادت پر ذرا بھی اثر نہیں ہو رہا۔
ایرانی حکومت کے ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ ہم پر مسلط کی گئی مگر ہم نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا اور شکست سے دوچار کیا ہے۔ایران کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا جو اس کی خودمختاری اور عزت و وقار کے منافی ہو ۔امریکی صدر نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے اہل نہیں وہ آئے دِن بے جا مطالبات کیے جا رہے ہیں آبنائے ہرمز ایران اور یمن کی حدود میں واقع اور اس کا فیصلہ ہم خود کریں گے۔
امریکہ کو ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنا ہوں گے۔ ہم پر لگائی گئی 47سالہ معاشی پابندیاں ختم کرنی ہوں گی۔ ہمارے تمام مطالبات زمینی اور جغرافیائی ماحول اور ایرانی عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے ہے۔ ہم پر 47سال سے لگائی گئی پابندیاں کس لیے ہیں؟خدا کا شکر ہے کہ ہم پورے قد سے عزت و وقار کے ساتھ کھڑے ہیں نا جھکے ہیں نا بکے ہیں اور ڈرے ہیں۔اس کے لیے ہم ایرانی عوام کی حمایت کے مشکور ہیں۔جنہوں نے ہمیشہ اپنی حکومت اور رہبر کا ساتھ دیا۔
-
پاکستان3 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان4 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان5 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

