تازہ ترین
واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا
تحریر: سید ارشد علی نقوی
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ بے سبب نہیں ہوتا
یہ سادہ سا شعر نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ کسی بھی تاریخی واقعہ کی تفہیم کی خاطر گہرائی میں اترنے کے لیے ایک جامع نقطہء نظر فراہم کرتا ہے۔ واقعہ کربلا محض ایک یکدم پیش آنے والا سانحہ نہیں تھا کہ بس امام حسین علیہ السلام سے بیعت طلب کی گئی تو امام علیہ السلام نے مدینہ چھوڑ دیا، اچانک اہل کوفہ کی طرف سے خطوط لکھے گئے ، نواسہ رسول کوفہ کے لئے نکلے اور گھیر کر شہید کر دیئے گئے، نہیں ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ کئی برسوں کی سیاسی، سماجی اور مذہبی تبدیلیوں کا منطقی انجام تھا۔
جب ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ آپ نے اس واقعہ کی پیشگوئی بہت عرصہ قبل فرما دی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے اسباب تھے جنہوں نے رسول اللہ کے نواسے کو اپنے گھر بار سے نکل کر بیابانوں میں شہادت کی منزل پر پہنچا دیا؟ اس نکتے کی تاریخی گرہ کھولنے اور اسباب کو وسعت نظر سے زیر بحث لانے کی کوشش کریں گے۔
سب سے پہلے رسول اسلام صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی پیش گوئیوں اور روایات کی طرف بامعرفت نظر کریں تو یہ بات ہمہ وقت پیش نظر رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید کی وضاحت کے تحت آپ کی تمام تر زندگی حتیٰ کہ سوچ، فکر و عمل ، کردار ، محبت و نفرت ، دوستی، دشمنی سبھی کچھ اللّٰہ پاک کی جانب سے کی جانے والی وحی کے تابع تھا
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ صرف امام حسین علیہ السلام کی محبت اور فضیلت کے بارے میں احادیث بیان کیں، بلکہ ان کی شہادت کے بارے میں صاف صاف بتایا مثلاً "حسین منی و انا من الحسین‘‘: یہ حدیث امام حسین ؑ کے ساتھ رسول اللہ کے روحانی اور نسبی اتحاد کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حسین کی شان و عظمت رسول اللہ سے جڑی ہوئی ہے اور ان کے ساتھ ہونے والا سلوک گویا رسول اللہ کے ساتھ ہونے والا سلوک ہے ۔
ام المومنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کربلا کی مٹی دے کر فرمایا تھا کہ جب یہ مٹی خون میں تبدیل ہو جائے تو جان لو کہ میرے بیٹے حسین کو شہید کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دعائے عرفہ: سید الشہداء امام حسینؑ کے عطا کردہ دعائیہ ادب کا شاہکار
حضرت علی کا کربلا میں قیام:
حضرت علی علیہ السلام جب جنگ صفین سے واپس آ رہے تھے تو انہوں نے کربلا کے مقام پر قیام کیا۔ روایت ہے کہ انہوں نے اس مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہی وہ مقام ہے جہاں میرے بیٹے حسین اور ان کے ساتھی شہید کیے جائیں گے۔‘‘
یہ پیشگوئیاں اس امر کی دلیل ہیں کہ واقعہ کربلا اللہ کے رسول کے علم میں تھا اور آپ علیہ السلام نے اس کی باقاعدہ پیش بندی بھی فرمائی یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا اور بلکہ یہ اسلام کی فکری و نظری بنیاد کی حفاظت کی تحریک تھی اس کی اولین وجہ اسلامی نظام حکومت تھی جس کا مقصد اللّٰہ کی زمین پر اللّٰہ کی رضا کے لئے اللّٰہ کے بندوں کو باعزت طریقے سے اللّٰہ کی بندگی کے راستے پر گامزن کرنا تھا تاکہ وہ زمین پر اللّٰہ کا خلیفہ ہونے کے اعزاز کو حاصل کر سکے اس نظام کا رخ بالجبر خلافت سے ملوکیت کی جانب موڑ دیا گیا ۔
اسلام میں حکومت کی بنیاد قرآن و سیرتِ سرورِ کائنات میں واضح کر دی گئی ہے اور اس حکومت کی پالیسیوں اور پروگرامات پر عمل داری کا طریقہ کار باہمی مشاورت اور شورائیت پر تھا لیکن امیر شام نے جب اپنے ناخلف بیٹے یزید کو ولی عہد مقرر کیا تو خلافت کو موروثی بادشاہت میں بدل دیا۔ یہ تبدیلی انتہائی اہم تھی کیونکہ اس نے مسلمانوں کے لیے یہ مسئلہ کھڑا کر دیا کہ اگر کوئی نالائق شخص تخت نشین ہو جائے تو اس کے خلاف کیا کیا جائے۔
حکومتی جبر کے سامنے عوام کی بےبسی نے اس بارے میں اسلامی تعلیمات کی روشنی کو تاریکی میں تبدیل کر دیا پس رسول اسلام کے وارث ہونے کے ناطے امام حسین علیہ السلام کی ذمہ داری تھی کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی حفاظت فرمائیں پس حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس تبدیلی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یہی ان کی جدوجہد کی بنیادی وجہ تھی
تاریخ کے بیان کردہ اسباب میں ایک سبب بنی امیہ اور بنو ہاشم کی باہمی دشمنی بھی ہے
یہ دشمنی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے اعلان نبوت سے پہلے بھی موجود تھی۔ بنو ہاشم عرب کا ایک بافضیلت قبیلہ ہونے کے ساتھ ساتھ ابراہیم و اسماعیل علیہما و علی نبینا السلام کے اوصاف و کمالات کا مظہر اور اسی وجہ سے مکہ کے قبائل کی سرداری کے مقام پر فائز تھا اس کرامت سے حسد کی وجہ سے بنو امیہ، بنو ہاشم کے خلاف برسر پیکار رہتے اور ان کے درمیان قیادت اور عزت کے حصول کے لیے مقابلہ رہتا تھا۔
جب اسلام آیا تو بنو ہاشم کو مزید سرفرازی ملی، جس نے بنی امیہ کے دل میں بعض و حسد کی آگ کو مزید بھڑکا دیا جس کے نتیجے میں جنگ بدر سے فتح مکہ تک بنو امیہ کی اسلام دشمنی تاریخ انسانیت کا سیاہ باب ہے۔ ان جنگوں میں بنی امیہ کے کئی سردار مارے گئے، فتح مکہ نے کفار و مشرکین کا غرور توڑا اور ان کے لئے اسلام قبول کرنے کے علاؤہ کوئی چارا نہ رہا مگر بعد از رحلت سرور دو عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم یہ دشمنی باانداز دیگر برقرار رہی جس کا نتیجہ یزید ابن معاویہ کی ولی عہدی کی صورت میں نمودار ہوا اور اس کے دور میں یہ دشمنی اپنے عروج کو پہنچی جس کا منطقی نتیجہ سانحہ کربلا کی صورت میں نمودار ہوا ۔
یہ بھی پڑھیں: حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام: وفا، شجاعت اور قربانی کی داستان
تاریخ نے اس سلسلے میں اک اور سبب کی جانب توجہ دلائی ہے اور وہ ہے یزید کا کردار اور اس کی بیعت کا مسئلہ
تاریخی روایات کے مطابق یزید کی تربیت جس ماحول میں ہوئی اس کے سبب وہ شرابی، فاسق و فاجر انسان بنا اسے نماز اور دین سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔
ایسے شخص کی بیعت کرنا کسی باایمان فرد کے لیے ممکن نہ تھا تو خاص طور اس شخصیت کے لئے کیسے ممکن تھا جس کی رگوں میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کا خون رواں دواں ہو، جو رسول اللہ کا نواسہ ہو ، جس کی تربیت خاتون جنت کی گود میں ہوئی ہو اور جس کے گوشت پوست میں مولا علی علیہ السلام کی شجاعت و شہامت گندھی ہوئی ہو۔
پس ان وجوہات کے سبب جب وہ لمحہ آیا کہ یزید نے حاکم مدینہ کو امام حسین علیہ السلام سے بیعت لینے کا حکم دیا، تو امام نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بھی اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث و روایات ثابت کرتی ہیں کہ آپ علم وحی کے ذریعے اس تحریک کے تمام پہلوؤں کی جزیات تک جانتے تھے اور اس تناظر میں یہ بات ممکن نہیں کہ آپ امت کی کسی مشکل کا علم رکھنے کے باوجود اس کے تدارک اور امت کی نجات کے لئے کوئی لائحہ عمل نہ دیں اور اسلام کے دفاع کا انتظام نہ فرمائیں۔ اللّٰہ کے نبی نے اپنے خانوادے کو اس مہم کے لئے ہر اعتبار سے تربیت دی جس کے نتیجے میں اس موقع پر امام حسین علیہ السلام کا موقف ابھر کر سامنے آیا کہ اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا
یہ رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے خون اور مولا علی علیہ السلام کی تربیت کی تاثیر تھی کہ امام حسین علیہ السلام یزید کی بیعت کو اپنی زندگی کی قیمت پر بھی قبول کرنے کو تیار نہ ہوئے۔
چڑھ جائے کٹ کے سر تیرا نیزے کی نوک پر
لیکن یزیدیوں کی بیعت نہ کر قبول
ان کا مقصد کوئی ذاتی حکومت قائم کرنا نہیں تھا بلکہ وہ اسلام کے اصولوں کو بچانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے ایک خطبے میں واضح فرمایا کہ میں فسق و فجور کی حکومت کو اپنی خاموشی سے تسلیم نہیں کروں گا۔ ان کا یہ مؤقف ہی تھا جس نے کربلا کو ایک عظیم پیغام میں تبدیل کر دیا۔
امام حسین علیہ السلام کے اس الہی اقدام کے نتیجے میں واقعہ کربلا نے مسلمانوں کو ایک ابدی سبق دیا کہ حق و صداقت کے سامنے ہر بڑی سے بڑی طاقت بے بس ہے۔
اگرچہ امام حسین علیہ السلام کے لشکر کے افراد کم تھے، لیکن ان کی قربانی نے اسلام کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ یہ واقعہ اپنے ساتھ سچائی، عدل اور استقامت کا وہ سبق لے کر آیا ہے جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے مشعل راہ رہے گا۔
-
پاکستان3 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان4 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان6 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان9 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

