پاکستان
مہنگائی کا نیا وار! ایل پی جی 115 فیصد، بجلی 52 فیصد اور پیٹرول 36 فیصد مہنگا
اسلام آباد (صداے سچ نیوز) پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا، اشیائے ضروریہ، بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عام شہریوں کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کرنا شروع کردیا، جبکہ مہنگائی کی سالانہ شرح 12.31 فیصد تک پہنچ گئی۔
وفاقی ادارہ شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے جاری ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح میں ایک ہفتے کے دوران 0.29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں 21 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 10 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ 20 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
ایل پی جی، بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کتنی مہنگی ہوئیں؟
ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر ایل پی جی کی قیمت میں 114.88 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ٹماٹر 78.89 فیصد مہنگے ہوگئے۔
بجلی کے چارجز میں ایک سال کے دوران 52.38 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈیزل 39.27 فیصد اور پیٹرول 36.34 فیصد مہنگا ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق گندم کا آٹا بھی 33.95 فیصد مہنگا ہوا جبکہ مرغی کی قیمت میں 31.81 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اشیائے خورونوش، بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے شہریوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہوتا جارہا ہے۔
مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟
پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی کے مہنگے نرخ، پیداواری اخراجات اور اشیائے خورونوش کی طلب و رسد میں عدم توازن شامل ہیں۔
پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے اشیاء کی ترسیل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کا اثر براہ راست بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
اسی طرح بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے نرخ صنعتوں اور کاروباری اداروں کے پیداواری اخراجات میں اضافہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔
سبزیوں اور دیگر غذائی اشیاء کی قیمتوں میں موسمی تبدیلیاں، رسد میں کمی اور درآمدی اخراجات بھی مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
آنے والے مہینوں میں مہنگائی کا کیا امکان ہے؟
آئندہ مہینوں میں مہنگائی کی صورتحال کا انحصار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، بجلی کے نرخوں، غذائی اشیاء کی رسد اور حکومتی پالیسیوں پر ہوگا۔
سردیوں میں ایل پی جی اور دیگر ایندھن کی طلب بڑھنے سے گھریلو اخراجات میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی بھی اضافے سے ٹرانسپورٹ اور اشیاء کی پیداواری لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔
تاہم زرعی پیداوار اور غذائی اشیاء کی بہتر رسد، توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور مؤثر حکومتی اقدامات مہنگائی کے دباؤ میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے لیے آئندہ مہینوں کی مہنگائی کا درست اندازہ لگانے میں توانائی اور غذائی اشیاء کی قیمتیں اہم عوامل ہوں گی۔
دوسری جانب عام شہریوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کے باعث بڑھتی ہوئی مہنگائی نے گھریلو بجٹ، قوت خرید اور معیار زندگی کو متاثر کردیا ہے۔
-
برطانیہ اور یورپ8 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان8 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان10 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان1 سال agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 سال agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان9 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان

