تازہ ترین
امریکا نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب تعینات کر دیے
واشنگتن (صداۓ سچ نیوز) خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی امریکی بحریہ نے ایران کے قریب اپنے 2 طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش تعینات کر دیے۔
بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق دونوں بحری جہاز گزشتہ روز خلیجِ عمان میں داخل ہوئے۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز کے اطراف سیکیورٹی کو مزید مضبوط کرنا اور ضرورت پڑنے پر تہران پر دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے۔
یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں، عالمی سطح پر تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، اگرچہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
اس کے بعد امریکا نے ایران پر خطے میں 3 آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام عائد کیا اور ایرانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔
جواباً ایران نے 2 روز قبل خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ اور جمعرات کو ایران کے 6 شہروں میں کیے گئے امریکی حملوں میں تقریباً 17 جاں بحق ہوئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق بحری قوت میں اس اضافے کا مقصد خطے کی سلامتی کو فروغ دینا اور استحکام برقرار رکھنا ہے۔
سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ کے مختلف سمندری علاقوں میں گشت کر رہے ہیں، جبکہ سینٹ کام کی افواج خطے کی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے مشن پر عمل پیرا ہیں۔
جب سینٹ کام سے پوچھا گیا کہ آیا یہ تعیناتی ایران کی معیشت کو ماضی میں نقصان پہنچانے والی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ہے؟ تو اس نے آپریشنل معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم دونوں طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے میزائلوں کی ممکنہ مار کی حدود میں دیکھے گئے، جس کے باعث ان کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینئر فیلو اور ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل مارک مونٹگمری نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ افواج کی نقل و حرکت معمول کا حصہ ہوتی ہے، لیکن جب بحری جہازوں کو ناکہ بندی یا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کی معاونت کے لیے تیار کیا جاتا ہے تو وہ عمومی طور پر ایرانی خطے کے زیادہ قریب آ جاتے ہیں۔
امریکی بحریہ کی موجودگی میں اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا کی توجہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جاسکے، جو نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر بھی ایک اہم معاملہ ہے۔
دوسری جانب قطر کا ایک وفد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں گزشتہ روز ایران میں مذاکرات مکمل کر کے واپس روانہ ہو گیا جبکہ ایرانی حکام ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے لیے آج عمان جائیں گے۔
-
پاکستان4 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان4 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان6 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان5 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان9 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو9 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان4 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان4 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

