Connect with us

تازہ ترین

آسٹریلیا سے سبق: قانون نہیں، رویہ بدلتا ہے معاشرہ

Nisar Hussain

تحریر : نثار حسین

دورانِ سیر اکثر ایسا ہوا کہ مخالف سمت سے کوئی شخص اپنے پالتو کتے کے ساتھ آتا دکھائی دیا۔ فاصلہ کم ہوتے ہی وہ خاموشی سے کتے کو ایک طرف کر لیتا، رسی ہلکی سی کھینچ کر راستہ صاف کر دیتا نہ کوئی اشارہ، نہ جملہ اور نہ ہی کسی قسم کا احساسِ برتری۔ یہ سب کچھ گویا بن کہے اس بات کا اعلان ہوتا کہ راستہ صرف میرا نہیں، آپ کا بھی ہے۔

یہ چھوٹا سا عمل، بظاہر معمولی لیکن شہری شعور ( سیوک سینس) کی وہ زندہ تصویر ہے جسے کتابوں میں نہیں، معاشروں میں دیکھا جاتا ہے۔

شہری شعور سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ چند سماجی آداب کا مجموعہ ہے یا واقعی مکمل طرزِ زندگی؟ اور اگر یہ طرزِ زندگی ہے تو کیا کوئی قوم اجتماعی طور پر اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا سکتی ہے؟ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے ضخیم کتابیں کھولنے کی چنداں ضرورت نہیں بس آسٹریلیا کی گلیوں، سڑکوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر چند دن خاموشی سے گزار لینا کافی ہے۔

سیوک سینس کا سادہ مفہوم شہری شعور، سماجی ذمہ داری اور باہمی احترام ہے، مگر آسٹریلوی معاشرے میں یہ تعریف الفاظ تک محدود نہیں رویوں میں ڈھل چکی ہے۔ قطار میں کھڑا ہونا کسی قانون کی شق نہیں بلکہ ایک فطری سماجی عادت ہے۔ چاہے سپر مارکیٹ ہو، بس اسٹاپ یا کسی ہوٹل کا استقبالیہ بعد میں آنے والا خود بخود مناسب فاصلے پر رک جاتا ہے۔ نہ کندھے سے کندھا ٹکراتا ہے، نہ کسی کی ذاتی حدود میں بلا اجازت داخل ہونے کی جسارت کی جاتی ہے۔ امیر ہو یا صاحبِ اختیار، قطار میں سب برابر ہوتے ہیں، اور یہی برابری معاشرتی سکون کی بنیاد رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چھوٹے لفظ، بڑا اثر: ٹکراؤ سے تہذیب تک کا سفر

یہاں جسمانی فاصلہ آداب کا تقاضا نہیں بلکہ خاموش احترام کی علامت ہے۔ کوئی کسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بات نہیں کرتا، نہ اتنا قریب آتا ہے کہ دوسرے کی نجی حدود مجروح ہوں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر فرد دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی نجی دنیا کی حفاظت کر رہا ہو۔

ٹریفک کا منظرنامہ بھی اس اجتماعی شعور کی جھلک پیش کرتا ہے۔ ایک سال سے زائد قیام کے دوران شاید ہی کبھی گاڑی کے ہارن کی آواز سننے کو ملے۔ وجہ سادہ ہے کوئی بلاجواز گاڑی روکتا ہے، نہ پیچھے آنے والا بے صبری دکھاتا ہے۔ سبقت لینا ہو یا چوراہے سے گزرنا ہر مرحلہ اشاروں، قواعد اور باہمی فہم کے تحت طے پاتا ہے۔ یہاں قانون پر عمل خوف سے نہیں اس یقین سے کیا جاتا ہے کہ قانون کی پاسداری اجتماعی فائدے کی ضامن ہے۔

وقت کی پابندی بھی شہری شعور کا ایک مضبوط ستون ہے۔ ملاقات ہو تو پیشگی وقت طے کیا جاتا ہے بغیر اطلاع کسی کے گھر پہنچ جانا بدتہذیبی سمجھا جاتا ہے۔ اس رویے کا فائدہ یہ ہے کہ کوئی فرد دوسرے کے وقت، سکون یا نجی زندگی میں مداخلت نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:شمع سے شمع جلے،پاکستانیت کی روشنی دنیا بھر میں

عدم مداخلت کا اصول یہاں عملی اخلاقیات کا حصہ ہے۔ مقامی باشندے اس تجسس میں مبتلا نہیں ہوتے کہ ہمسایہ کیا کر رہا ہے یا کون کہاں جا رہا ہے۔ ہر شخص کے ذاتی معاملات کو واقعی ذاتی سمجھا جاتا ہے، یہ رویہ معاشرے کو غیر ضروری تنازعات سے محفوظ رکھتا ہے۔

تحفہ دینے اور لینے کا انداز بھی قابلِ غور ہے۔ تحفے کی قیمت، جسامت یا نمائش زیرِ بحث نہیں آتی۔ اصل اہمیت نیت، خلوص اور احساس کی ہوتی ہے۔ سادہ سا تحفہ بھی اسی خوش دلی سے قبول کیا جاتا ہے جیسے کوئی قیمتی شے کیونکہ یہاں تحفہ اظہارِ محبت ہے، مقابلہ نہیں۔

قانون کی پاسداری یہاں نگرانی کی محتاج نہیں۔ تفریحی مقامات پر لوگ اپنا کچرا خود سمیٹ کر لے جاتے ہیں اور مخصوص ڈسٹ بن میں ڈالتے ہیں۔ کوئی دیکھ رہا ہو یا نہ ہو، ذمہ داری نبھائی جاتی ہے۔ یہی چھوٹے چھوٹے اعمال مل کر ایک منظم اور پائیدار سماجی نظام کو جنم دیتے ہیں۔

ہوٹلوں میں قیام کا تجربہ بھی اسی باہمی اعتماد کی ایک مثال ہے۔ اکثر مقامات پر استقبالیہ خالی ہوتا ہے۔ مسافر خود چابی لیتے ہیں، کمروں میں جاتے ہیں، اور وعدے کے مطابق تمام سہولیات میسر ہوتی ہیں بار بار یاد دہانی یا شک و شبہ کے بغیر۔ یہ سب کچھ صرف اعتماد کے سہارے ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلی کے گلے میں گھنٹی ،اعتماد کی تلاش میں ایک رات

میلبورن کے کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹی ٹوئنٹی میچ کے بعد ساٹھ ہزار سے زائد شائقین کا چند ہی منٹوں میں پُرسکون انداز میں منتشر ہو جانا بھی شہری شعور کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ دھکم پیل نہ تلخی، نہ بدنظمی بس خاموش نظم و ضبط اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری۔

یقیناً یہ کہنا درست نہیں کہ یہاں سب کچھ سو فیصد مثالی ہے۔ دوہرے معیار رکھنے والے افراد ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں اور یہاں بھی کبھی کبھار خود کو نمایاں کر دیتے ہیں۔ مگر مجموعی طور پر یہ ایسا معاشرہ ہے جہاں سیوک سینس نعرہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔

اب ذرا پاکستانی تناظر میں اس تصویر کو رکھ کر دیکھیے۔ ہم بھی قطار بناتے ہیں، مگر اکثر اسے توڑنے کے لیے۔ ہم قانون جانتے ہیں، مگر عمل کو دوسروں کے لیے مخصوص سمجھتے ہیں۔ ہم ذاتی حدود کا ذکر تو کرتے ہیں، مگر انہیں ماننے کو اپنی توہین سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم اصولوں سے ناواقف ہیں مسئلہ یہ ہے کہ ہم انہیں اجتماعی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ سیوک سینس کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اسے اپنانے پر آمادہ ہیں؟ آسٹریلیا کی مثال بتاتی ہے کہ اگر قومیں اجتماعی طور پر چھوٹے اصولوں پر عمل شروع کر دیں تو بڑی تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

شاید ہمیں بھی کسی بڑے انقلاب کا انتظار چھوڑ کر، بس اتنا ہی کرنا ہوگا کہ راستہ چلتے ہوئے اپنے کتے کو ایک طرف کر لیں اور دوسرے کے حق کو، بن کہے، تسلیم کر لیں۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

donald trump and muhammad suleman donald trump and muhammad suleman
تازہ ترین2 گھنٹے ago

امریکا ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ترک کر دے، سعودی عرب

ریاض (صداۓ سچ نیوز) سعودی عرب نے امریکا پر زور دیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کے محاصرے کا منصوبہ...

strait of hormuz strait of hormuz
تازہ ترین2 گھنٹے ago

ناکہ بندی کے باوجود چینی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب

بیجنگ (صداۓ سچ نیوز) آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے باوجود، پابندیوں کی فہرست میں شامل چینی ٹینکر آبنائے...

food food
پاکستان2 گھنٹے ago

راولپنڈی میں مضر صحت اور ناقص گوشت کی سپلائی کی کوشش ناکام ، 1500 کلو گرام گوشت تلف

راولپنڈی (صداۓ سچ نیوز) :پنجاب فوڈ اتھارٹی راولپنڈی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر میں مضر صحت اور ناقص گوشت...

Baqir qalibaf and J D Vance Baqir qalibaf and J D Vance
تازہ ترین2 گھنٹے ago

ایران کے جوہری پروگرام پر ڈیڈ لاک: امریکا 20 سالہ پابندی کا خواہاں، تہران 5 سال پر آمادہ

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں تہران کا جوہری...

imran-khan imran-khan
پاکستان3 گھنٹے ago

فارن فنڈنگ کیس، بانی پی ٹی آئی کے خلاف 57 صفحات کا چالان تیار

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) فارن فنڈنگ کیس میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف ایف آئی اے نے 57...

us-boat-attack us-boat-attack
تازہ ترین3 گھنٹے ago

مشرقی بحر الکاہل میں کشتیوں پر امریکی حملوں میں 2 افراد ہلاک

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی فوج نے کہا ہے کہ مشرقی بحرالکاہل میں منشیات کے مشتبہ اسمگلروں کی دو کشتیوں...

iran-missile-program iran-missile-program
تازہ ترین3 گھنٹے ago

جنگ جاری رہی تو نئے ہتھیار سامنے لائیں گے، پاسداران انقلاب

تہران (صداۓ سچ نیوز) ترجمان ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا پہلے بھی خالی ہاتھ بھاگا تھا اب...

strait-of-hormuz strait-of-hormuz
تازہ ترین3 گھنٹے ago

آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کشیدگی میں اضافہ کرے گی، چین

بیجنگ (صداۓ سچ نیوز) چینی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمزکی امریکی ناکہ بندی کشیدگی میں...

North-Korea-leader-Kim-Jong North-Korea-leader-Kim-Jong
تازہ ترین3 گھنٹے ago

شمالی کوریا کا کروز میزائل اور جہاز شکن میزائل کا تجربہ

پیانگ یانگ (صداۓ سچ نیوز) شمالی کوریا نے کروز میزائل اور جہاز شکن میزائل کا تجربہ کر لیا۔ بین الاقوامی...

gold gold
تازہ ترین4 گھنٹے ago

مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

راولپنڈی (صداۓ سچ نیوز) ایک دن بعد عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونا اور چاندی پھر مہنگے ہوگئے۔ آل...

Trending