Connect with us

تازہ ترین

رائے عامہ

Syed Abbas Haider Shah Advocate

تحریر: سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے، جہاں جنگ اور امن کے درمیان لکیر پہلے سے زیادہ دھندلی ہو چکی ہے ایران امریکہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے جنگ بندی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کا آغاز بظاہر ایک مثبت پیش رفت محسوس ہوتی ہے، مگر خطے کی سیاسی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر سفارتی اقدام کے پیچھے محض امن کی خواہش کارفرما نہیں ہوتی، بلکہ طاقت کے توازن کو اپنے حق میں موڑنے کی ایک گہری حکمتِ عملی بھی شامل ہوتی ہے۔

امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ماضی اس امر کا گواہ ہے کہ وہ اکثر مذاکرات کو دباؤ کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔ اقتصادی پابندیاں، سمندری ناکہ بندی، اور سفارتی تنہائی جیسے اقدامات کے ذریعے مخالف ریاستوں کو اس نہج پر لایا جاتا ہے جہاں وہ امریکہ کی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں، حالیہ آبنائے ہرمز کی ناکا بندی بھی اسی کا حصہ ہے۔

ایران کے ساتھ جاری حالیہ مذاکرات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں بظاہر امن کی کوشش درحقیقت ایک نئی قسم کی اسٹریٹجک کشمکش معلوم ہوتی ہے گو کہ اس وقت مجبور ایران نہیں بلکہ امریکہ زیادہ مجبور نظر آ رہا ہے۔

تاہم، ایران کا مؤقف اس بار ماضی سے مختلف نظر آتا ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کی خودمختاری یا قومی مفادات کو نقصان پہنچائے بلکہ حیران کن بات یہ ہے کہ ایران نے اپنے دس شرائط پیش کر دیے ہیں جو منظر عام پر موجود ہیں جن میں سے اکثر پر امریکا راضی بھی ہوگیا تھا مگر امریکہ کے اعلیٰ سطح کے عہدہ دار (سیاسی و عسکری)جو ان شرائط پر راضی ہوگئے تھے اور چاہتے تھے کہ جنگ بندی ہوجائے ٹرمپ نے انہیں فارغ کردیا اور آبنائے ہرمز کی ناکا بندی کر کے ٹرمپ نے نیا تماشا کھڑا کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نامنصفانہ جنگ (صیہونی استکبار اور تنہا ایرانی استقامت)

حد تو یہ ہے کہ جو بھی امریکی عہدےدار ٹرمپ سے اتفاق نہیں کرتا وہ اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور دوسری طرف "ابو الجھوٹ” بابائے جھوٹ امریکی صدر یہ تاثر دے رہا ہے کہ ایرانی قیادت جنگ بندی پر آپس میں متفق نہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔

خیر! ایران کی قیادت برابری کی سطح پر مذاکرات کرنا چاہتی ہے جو کہ ایک جائز قانونی و اخلاقی قدم ہے اور ساتھ ساتھ خطے میں ایک دیرپا امن کے قیام کے لیے ایک جائز و با عزت معاہدے کی خواہاں ہے، جو نہ صرف خطے میں استحکام لائے بلکہ طاقت کے غیر متوازن استعمال کو بھی محدود کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے دباؤ کے باوجود پسپائی اختیار نہیں کی بلکہ ایک مضبوط اور خوداعتماد بن کر فولاد کی مانند کھڑا ہے اور ایک طاقتور موقف اپنایا ہوا ہے۔

ان حالات کے درمیان بعض خفیہ اطلاعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کہ امریکہ اور صیہونی قابض ریاست اس وقت ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تلاش میں ہیں اور ان کو بھی شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ رجیم چینج کا دعویٰ کر سکیں!

مزید یہ کہ بعض اطلاعات کے مطابق، جنگ بندی کے دوران امریکہ اور اسرائیل مبینہ طور پر ایسے مواقع کی تلاش میں ہیں جن کے ذریعے ایران کی باقی مانندہ اعلیٰ قیادت جو شہید سید علی خامنہ ای کے رفقاء ہیں ان کو بھی نشانہ بنایا جا سکے۔

اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، لیکن ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے انہیں سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی دراصل ایک حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے وقت حاصل کر کے دوبارہ عسکری تیاری کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق کا افق اور ظہورِ سحر

یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا واقعی جنگ بندی امن کا پیش خیمہ ہے، یا یہ محض ایک وقفہ ہے جس کے بعد ایک نئی اور زیادہ شدید محاذ آرائی کا آغاز ہو سکتا ہے؟ خطے کے تجزیہ کار اس حوالے سے منقسم نظر آتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک یہ سفارتی عمل ایک ممکنہ حل کی طرف پیش رفت ہے، جبکہ دیگر اسے ایک وقتی چال قرار دیتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی رائے عامہ میں ایک نیا رجحان ابھر رہا ہے۔ ماضی کے برعکس، اب دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے افراد اور حلقے موجود ہیں جو طاقت کے یکطرفہ استعمال کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ صورتحال میں ایران نے نہ صرف عسکری بلکہ نفسیاتی سطح پر بھی ایک مضبوط پوزیشن حاصل کر لی ہے اور یہ جنگ جیت چکا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ مزاحمت اور استقامت نے ایران کو ایک ایسی جگہ لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ خود ایک نئے فاتح کے طور پر ابھرا ہے، اور یہ عالمی طور پر ایک حیرت انگیز کامیابی دیکھی جا رہی ہے۔۔

تاہم، بعض خود کو ریشنل کہنے والے تجزیہ نگار اور عام افراد کے مطابق! حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ جنگ کا فیصلہ محض میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا بلکہ سفارتی میزوں، اقتصادی دباؤ، اور عالمی اتحادوں کے ذریعے بھی طے ہوتا ہے۔ ایران کی مزاحمت اپنی جگہ، مگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے عالمی اثر و رسوخ کو نظرانداز کرنا بھی ایک سادہ لوحی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: میں ایک امریکہ مخالف جوان ہوں

یہاں پر میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ اب بھی اس طرح کی سوچ رکھنا کہ امریکہ و صیہونی ناقابلِ شکست ہیں یہ دراصل سادہ لوحی ہے نہ کہ امریکہ و اس کے اتحادیوں کے عالمی اثر و رسوخ کو نظرانداز کرنا، کیونکہ حالیہ ۴۰ روزہ جنگ میں دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ایران نے ان کی دن رات پٹائی کی اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لے آئے۔

لہذا اب آنے والے دن اس خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ اگر مذاکرات سنجیدگی سے آگے بڑھتے ہیں تو ایک نیا توازن پیدا ہو سکتا ہے جو خوش آئند ہوگا، لیکن اگر یہ محض وقتی حربہ ثابت ہوئے اور امریکہ و صیہونی ریاست نے دھوکا کیا تو مشرقِ وسطیٰ ایک اور طویل اور تباہ کن تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

فی الحال، دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں بیانیے، حقیقت سے زیادہ اثرانداز ہو رہے ہیں اور یہی اس بحران کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Donald Trump with witkoff and kushnar along with JD Vance Donald Trump with witkoff and kushnar along with JD Vance
پاکستان3 گھنٹے ago

وٹکوف اور کشنر کا دورہ پاکستان منسوخ کردیا، ٹرمپ

واشنگٹن (صدائے سچ نیوز) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اسٹیو وٹکوف اور جیراڈ کشنر...

Syed Abbas Haider Shah Advocate Syed Abbas Haider Shah Advocate
تازہ ترین4 گھنٹے ago

رائے عامہ

تحریر: سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے، جہاں...

Satellite Satellite
پاکستان6 گھنٹے ago

پاکستان نے الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ ای او تھری کو کامیابی سے لانچ کردیا

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ پاکستان نے...

Rajistan Rajistan
تازہ ترین6 گھنٹے ago

بھارتی ریاست راجستھان میں پانی کی قلت نے جنگ کا ماحول بنادیا

راجستھان (صداۓ سچ نیوز) بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے راج چمن میں پانی کی قلت نے جنگ کا ماحول پیدا...

foreign-minister-hakan-fidan foreign-minister-hakan-fidan
تازہ ترین6 گھنٹے ago

امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور میں جوہری مسائل کے اہم نکات طے ہوسکتے ہیں، ترک وزیر خارجہ

انقرہ (صداۓ سچ نیوز) ترک  وزیر خارجہ حاقان فیدان کا کہنا ہےکہ  ان کے خیال میں جوہری ایشو کے اہم...

SohailAfridi SohailAfridi
پاکستان6 گھنٹے ago

26ویں آئینی ترمیم کے بعد بانی کی عدالتوں سے امید ختم ہوچکی، سہیل آفریدی

پشاور (صداۓ سچ نیوز) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد بانی چیئرمین...

KhatamalAnbiya KhatamalAnbiya
تازہ ترین6 گھنٹے ago

امریکی فوج ناکا بندی جاری رکھتی ہے تو اسے فیصلہ کن ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایران فوج کی مشترکہ کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر نے خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے حوالے...

jet-fuel-prices jet-fuel-prices
پاکستان6 گھنٹے ago

لائٹ ڈیزل آئل اور جہازوں میں استعمال ہونے والا ایندھن بھی سستا کردیا گیا

کراچی (صداۓ سچ نیوز) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کرتے ہوئےحکومت نے لائٹ ڈیزل آئل اور جہازوں...

trump trump
تازہ ترین7 گھنٹے ago

55 فیصد امریکی شہری صدر ٹرمپ کے مواخذے کے حامی

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی جریدے نیوز ویک نے نیا سروے جاری کردیا جس کے مطابق 55 فیصد امریکی شہری صدر ڈونلڈ...

maryam-nawaz maryam-nawaz
پاکستان7 گھنٹے ago

پنجاب حکومت کا وہاڑی میں میڈیکل کالج بنانے کا فیصلہ، نام کلثوم نواز میڈیکل کالج ہوگا

لاہور (صداۓ سچ نیوز) پنجاب حکومت نے وہاڑی میں میڈیکل کالج بنانےکا فیصلہ کیا ہے،تعلیمی ادارے کا نام کلثوم نواز...

Trending