تازہ ترین
پینڈو
تحریر: نثار حسین
نصف صدی بعد جب ایک پرانے ہم جماعت کی آواز نے ماضی کے دریچے وا کیے تو وقت جیسے اچانک الٹا چلنے لگا۔ آنکھوں کے معائنے کے لیے ماہرِ امراضِ چشم کے کلینک جانا طبی ضرورت تھی، مگر وہاں جو منظر سامنے آیا وہ زندگی کے ان بوسیدہ اوراق کو پھر سے جگا گیا جن پر وقت کی گرد تو جم گئی تھی، مگر یادوں کی روشنائی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی۔
ڈاکٹر نے معائنے کے بعد مجھے اپنے معاون کے پاس بھیج دیا۔ وہ ایک بھرے ہوئے بریف کیس کے ساتھ موجود تھے، جس میں مختلف نمبروں کے شیشے قرینے سے رکھے تھے۔ انہوں نے مجھے کرسی پر بٹھایا اور سامنے آویزاں حروفِ تہجی پڑھنے کو کہا۔ وہ نہایت مہارت سے خالی فریم میں شیشے بدلتے جا رہے تھے تاکہ نظر کا درست پیمانہ متعین ہو سکے۔ اسی دوران ڈاکٹر اپنی نشست سے اٹھ کر ہمارے قریب آ کھڑے ہوئے۔ چند لمحے غور سے مجھے دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے بولے:
“آپ کا نام نثار حسین تو نہیں؟”
میں نے حیرت سے جواب دیا، “جی ہاں!”
وہ بے اختیار ہنس پڑے، “یار! میں تمہارا وہی ہم جماعت ہوں جسے تم ’پینڈو، پینڈو‘ کہہ کر چھیڑا کرتے تھے۔ آواز سے پہچان لیا۔”
یہ سنتے ہی جیسے دل کی زمین پر یادوں کی بارش برسنے لگی۔ انجانی سی خوشی پورے وجود میں اتر گئی۔ نگاہوں کے سامنے فوراً سینٹرل ماڈل سکول لوئر مال لاہور کی عمارت، اس کے برآمدے، کھیل کا میدان، شور مچاتے لڑکے اور اساتذہ کے باوقار چہرے گردش کرنے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: میلبورن میں محبت کا ذائقہ، چنیوٹی کنہ
ابرا ر بھٹی جب شیخوپورہ کے گاؤں سے ہمارے سکول میں داخل ہوا تو شہری ماحول اس کے لیے بالکل اجنبی تھا۔ کچھ طلبہ نے اُسے یوں دیکھا جیسے وہ کسی دوسری دنیا کی مخلوق ہو۔ کسی نے تمسخر اڑایا، کسی نے “پینڈو” کہہ کر آواز دی۔ میرا اپنا تعلق بھی دیہی پس منظر سے تھا، اس لیے دل فطری طور پر اس کے قریب ہو گیا اور یوں ہماری دوستی کی بنیاد پڑ گئی۔
وقت کے ساتھ وہی دیہاتی لڑکا علم و وقار کی ایسی منزلوں تک پہنچا کہ آج ا ممتاز ماہرِ چشم کے طور پر لوگوں کی بینائی درست کر رہا ہے۔
اس مختصر ملاقات نے یادوں کا ایسا در کھولا کہ ایک ایک کر کے پرانے چہرے سامنے آنے لگے۔ ہمارے کئی کلاس فیلوز بعد ازاں زندگی کے مختلف میدانوں میں نمایاں ہوئے۔ ثاقب موٹرز والے نجم الثاقب، معروف صنعتکار طلحہ بن زبیر، ممتاز تاجر شیخ جمشید اور ڈاکٹر سید اخلاق امجد سب ذہن کے دریچوں میں یوں ابھرے جیسے کل کی بات ہو۔ لاہور کی گہما گہمی میں برسوں بیت گئے، مگر زندگی کی دوڑ نے رابطوں کے سارے سلسلے کہیں دھندلا دیے۔
ذرا اور پیچھے جھانکا تو کلاس ہفتم کا ساتھی عبدالحئی یاد آ گیا۔ میں، عبدالحئی اور فرینڈز آپٹیکل والے حجازی ایک ہی ڈیسک پر بیٹھا کرتے تھے۔ عبدالحئی کی لکھائی کسی ماہر خطاط کے فن سے کم نہ تھی۔ یوں محسوس ہوتا جیسے وہ کاغذ پر موتی پرو رہا ہو۔ چارٹ لکھنے میں تو اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔ آج وہی عبدالحئی امراض چشم کا معروف پروفیسر ہے، اور سچ یہی ہے کہ استاد کبھی ریٹائر نہیں ہوتا؛ وہ اپنے شاگردوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ دہائی قبل جناح ہسپتال میں اس سے سرسری ملاقات ہوئی تھی، مگر وقت کی بے رحمی پھر ہمیں جدا کر گئی۔
پھر ذہن کے پردے پر سکول کی پوری فضا متحرک ہو گئی۔ جب ہم سکول میں داخل ہوئے تو ہیڈ ماسٹر گلزار بھٹی تھے، اور جب رخصت ہوئے تو چودھری نذیر اس منصب پر فائز تھے۔ دونوں اصول پسند، باوقار اور طلبہ کی کردار سازی پر یقین رکھنے والے اساتذہ تھے۔ قاسم وٹو، ذوالفقار شیخ، سرور علوی، ایم طفیل، قاضی افضل حسین، طاہر شادانی اور عبد الحمید جیسے اساتذہ تہذیب، علم اور تربیت کے چلتے پھرتے ادارے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: میلبورن، پاکستانی آموں کی آمد اور نقاب کشائی
ان کی شخصیت میں شفقت بھی تھی اور رعب بھی۔خصوصاً سیکنڈ ہیڈ ماسٹر قاضی افضل حسین کی موجودگی میں طلبہ ازخود نظم و ضبط میں آ جاتے وہ 10th بی کے کلاس انچا رچ تھے لمبا قد گھنی مونچھیں گھنے گھنگرلے بال ان کے روب اور دبدبہ کے سامنے سب کی بولتی بند ڈسپلن کے پابند جہاں کھڑے ہوتے طلبا راستہ بدل لیتے دل کے نرم خو انگریزی ان کے آگے بھاگتی انگریزی میں کمزور شاگردوں کو زیرہ پریڈ میں بلا لیتے ان کی محنت کا ثمر تھا کہ پوری کلاس ہی امتحان میں کامیاب ہو جاتی ایسی شخصیت کہ سب کا احترام کرنے کو دل چاہے فٹبال ٹیم کے کوچ ہمدرد اتنے کہ جو طلبا شرارتا فیس جمع نہ کرواتے قاضی صاحب اپنے سے کرا دیتے کے ٹو سگریٹ کے شوقین۔
اور پھر سکول کی کینٹین…
آدھی چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی طلبہ یوں کیفے ٹیریا کی جانب لپکتے جیسے کسی میلے کا آغاز ہو گیا ہو۔ کوئی سموسے مانگ رہا ہے، کوئی شامی کباب، کسی کو پیٹیز درکار ہیں تو کوئی ٹھنڈی بوتل کے لیے بے تاب ہے۔ اس ہجوم کے مرکز میں “مائی ڈیئر” کھڑا ہوتا؛ چہرے پر مستقل مسکراہٹ، ہاتھوں میں پھرتی، آواز میں اپنائیت۔ وہ سب کی سنتا، سب کو سنبھالتا اور ہر بچے کو یہ احساس دیتا کہ شاید وہی اس کا سب سے خاص گاہک ہے۔
یہ نصف صدی پر محیط داستان ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ وقت نے بہت کچھ بدل دیا، مگر کچھ رشتے، آوازیں اور یادیں ایسی ہوتی ہیں جو عمر کے کسی موڑ پر اچانک دستک دے کر انسان کو پھر سے اُس زمانے میں لے جاتی ہیں جہاں معصومیت ابھی زندہ ہوتی ہے، دوستیاں مفاد سے خالی ہوتی ہیں اور استاد صرف پڑھاتے نہیں، شخصیت تراشتے ہیں۔
-
پاکستان3 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان5 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان8 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

