تازہ ترین
غدیرِ خم: جب آسمان نے ولایتِ علیؑ کی گواہی دی
تحریر : نثارحسین
من کنت مولاہ فہٰذا علی مولاہ
اسلامی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو صرف تاریخی نہیں فکری، اعتقادی اور تہذیبی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ واقعۂ غدیرِ خم کو چودہ صدیوں سے مسلمانوں کی علمی و دینی گفتگو میں ایک بنیادی مقام حاصل ہے۔ یہ وہ واقعہ ہے جس پر اصل وقوع کے اعتبار سے امت کے دونوں بڑے مکاتبِ فکر، اہلِ سنت اور اہلِ تشیع، متفق ہیں، البتہ اس کے مفہوم، دلالت اور نتائج کے حوالے سے آرا مختلف ہیں۔
حجۃ الوداع سے واپسی پر اٹھارہ ذوالحجہ کو غدیرِ خم کے مقام پر رسول اکرم ﷺ نے ایک عظیم اجتماع سے خطاب فرمایا۔ شدید گرمی کے باوجود قافلوں کو روک لیا گیا، پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار کیا گیا اور آگے بڑھ جانے والوں کو واپس بلایا گیا۔ اس غیر معمولی اجتماع میں رسول اللہ ﷺ نے ایسا اعلان فرمایا جو اسلامی تاریخ کے اہم ترین بیانات میں شمار ہوتا ہے:
"مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ”
"جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔”
یہ حدیث متعدد اسناد کے ساتھ مروی ہے اور حدیث کے بڑے ذخیرے میں محفوظ ہے۔ اس کے اصل صدور پر اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر یہ اعلان کیوں فرمایا اور اس اعلان کا حقیقی مفہوم کیا تھا؟
اہلِ تشیع کے نزدیک اس سوال کا جواب قرآنِ مجید خود فراہم کرتا ہے۔ غدیرِ خم کے موقع پر سورۂ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی:
"يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ”
"اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام ہی نہیں پہنچایا، اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔”
یہ بھی پڑھیں: جنابِ مسلم بن عقیلؑ — ذبحِ عظیم کی پہلی قربانی
اس آیت میں غور طلب بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ تبلیغِ دین میں صرف کر دی تھی۔ آپؐ نے توحید، رسالت، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اخلاقیات اور تمام احکامِ الٰہی امت تک پہنچا دیے تھے۔ مکہ کی اذیتیں، طائف کی سنگ باری، شعبِ ابی طالب کی سختیاں اور میدانِ بدر و اُحد کی آزمائشیں اس بات کی گواہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تبلیغِ حق کے معاملے میں کبھی مصلحت یا خوف کو راہ نہ دی۔
ایسے میں اگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "اگر آپ نے یہ پیغام نہ پہنچایا تو گویا آپ نے رسالت کا حق ادا نہ کیا”، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کون سا پیغام تھا جسے پوری رسالت کے مساوی اہمیت دی جا رہی تھی؟
یہ کوئی عام حکم نہیں تھا یہ امت کے مستقبل سے متعلق ایسا بنیادی اعلان تھا جسے دین کی تکمیل کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔ ان کے نزدیک یہ اعلان حضرت علی علیہ السلام کی ولایت، قیادت اور جانشینی کا اعلان تھا۔
اسی تناظر میں وہ سورۂ مائدہ کی آیت 3 کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں:
"اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِينًا”
"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔”
ااگر دین کے بنیادی عقائد، عبادات اور احکام پہلے ہی مکمل ہو چکے تھے تو پھر دین کی تکمیل کا اعلان کس چیز کے ساتھ وابستہ تھا؟ اہل تشیع کے مطابق اس کا جواب ولایتِ علیؑ ہے، کیونکہ شریعت کے بعد اس کی حفاظت اور صحیح رہنمائی کا نظام بھی ضروری تھا۔
حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت ایسی نہیں تھی کہ جن کا مقام صرف غدیر کے دن بیان ہوا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر آپؑ کی عظمت، علم، تقویٰ اور قربت کو بارہا بیان فرمایا۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور حدیثِ منزلت میں آپ ﷺ نے فرمایا:
"اے علی! تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”
خیبر کے موقع پر فرمایا:
"کل میں علم اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول کا محبوب ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں: حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام: وفا، شجاعت اور قربانی کی داستان
پھر علم حضرت علیؑ کو عطا فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
"علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔”
ایک اور روایت میں فرمایا:
"اے علی! تم سے محبت صرف مومن کرے گا اور تم سے بغض صرف منافق رکھے گا۔”
حدیثِ غدیر کے ساتھ ان تمام روایات کو ملا کر دیکھا جائے تو حضرت علیؑ کی شخصیت امت کے لیے ایک غیر معمولی روحانی و دینی مرجع کی حیثیت سے سامنے آتی ہے۔
اسی لیے غدیرِ خم میں لفظ "مولا” کا مفہوم صرف دوست یا محبوب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اعلانِ غدیر سے قبل رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے سوال فرمایا:
"أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟”
"کیا میں مؤمنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حقِ تصرف نہیں رکھتا؟”
جب سب نے اثبات میں جواب دیا تو اس کے بعد فرمایا:
"مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهٰذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ”
پہلے جملے میں "اولیٰ” اور دوسرے جملے میں "مولا” کا سیاق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں ولایت اور قیادت کا مفہوم مراد ہے، صرف دوستی کا نہیں۔
حضرت علیؑ کے فضائل پر مشتمل روایات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ محدثین نے مستقل ابواب اور کتابیں مرتب کیں۔ "علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے”، "میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں”، "علی بہترین قاضی ہیں”، اور "جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی” جیسی روایات آپؑ کے بلند مقام کو واضح کرتی ہیں۔ صوفیاء، اہلِ محبت اور اہلِ معرفت کے نزدیک بھی حضرت علیؑ ولایت، شجاعت، علم، عدل اور عشقِ رسول ﷺ کا کامل نمونہ سمجھے جاتے ہیں۔
غدیرِ خم کی اہمیت تاریخی واقعے کی نہیں امت کے فکری مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود یہ واقعہ آج بھی زندہ ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں حضرت علیؑ کی محبت اور عظمت کو تازہ کرتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اہلِ سنت کے بہت سے جلیل القدر محدثین، مفسرین اور مؤرخین نے حدیثِ غدیر کو روایت کیا ہے اور اس کے اصل وقوع کو تسلیم کیا ہے۔ متعدد سنی علماء نے آیتِ تبلیغ کے غدیر سے تعلق رکھنے والی روایات بھی نقل کی ہیں۔ تاہم اہلِ سنت کی اکثریت اس واقعے کو حضرت علیؓ کی عظمت، فضیلت اور محبت کے اعلان کے طور پر سمجھتی ہے، جبکہ اہلِ تشیع اسے ولایت و امامت کے اعلان کی حیثیت دیتے ہیں۔ یوں اختلاف واقعے کے وقوع میں نہیں اس کی تشریح، تفسیر اور نتائج کے تعین میں ہے۔
بہرحال اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ غدیرِ خم میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے مقام و مرتبہ کو غیر معمولی انداز میں بیان فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان "من کنت مولاہ فہٰذا علی مولاہ” کو عشقِ رسول ﷺ اور محبتِ علیؑ کی روشن ترین صدا سمجھتے ہیں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّكِينَ بِوِلَايَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ
-
پاکستان3 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان5 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان8 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

