تازہ ترین
داد دینے والے معزز، رقص کرنے والی بدنام کیوں؟
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
شہر کی ایک پرانی گلی میں ایک کوٹھا کھڑا ہے۔
اتنا پرانا کہ اس کی دیواروں پر چونے سے زیادہ لوگوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ وقتنے اس کی اینٹوں کو بوسیدہ کر دیا ہے، لکڑی کی سیڑھیاں چرچراتی ہیں، کھڑکیوں کے رنگ پھیکے پڑ چکے ہیں، مگر اس کے بارے میں لوگوں کی دلچسپی میں ذرّہ بھر کمی نہیں آتی۔
شام ڈھلتی ہے تو کوٹھے کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں، اور چراغوں کے ساتھ وہ چہرے بھی نمودار ہونے لگتے ہیں جو دن بھر اخلاقیات، شرافت اور تہذیب کے وعظ کرتے پھرتے ہیں—–
گلی کے نکڑ پر کریم داد کی چائے کی دکان ہے۔
وہ چائے کم اور انسانوں کے چہروں کے پیچھے چھپے ہوئے سچ زیادہ بیچتا ہے۔
ہر شام کوئی نہ کوئی چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہتا ہے:
"آج پھر کنجریوں کے ہاں بڑا رش ہے۔”
دکان پر بیٹھے لوگ حقارت سے سر ہلاتے ہیں، گویا وہ سب فرشتے ہوں اور اس گلی سے ان کا کوئی تعلق ہی نہ ہو۔
مگر کریم داد ہر رات ایک اور منظر دیکھتا ہے۔
جب رات گہری ہوتی ہے تو یہی سر، جو دن میں نفرت سے ہلتے ہیں، خاموش قدموں کے ساتھ اسی کوٹھے کی سیڑھیاں چڑھتے نظر آتے ہیں۔
ان میں حاجی بشیر بھی شامل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رینگتا ہوا انصاف
محلے میں اس کی بڑی عزت ہے۔ مسجد کی پہلی صف میں کھڑا ہوتا ہے، لوگوں کو دین اور اخلاق کا درس دیتا ہے، اور معاشرتی برائیوں کے خلاف تقریریں کرتا ہے۔
لیکن…۔۔۔۔۔
رات اس کا دوسرا چہرہ سامنے لے آتی ہے۔
اندھیرے کی آڑ میں وہ اسی کوٹھے سے نکلتا دکھائی دیتا ہے جس پر دن کے اجالے میں لعنت بھیجتا ہے۔
اگلی صبح وہ حسبِ معمول کریم داد کی دکان پر بیٹھا ہے۔
داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتا ہے:
"یہ کوٹھے والی عورتیں عورتوں کے نام پر دھبہ ہیں۔ یہ معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہیں۔”
کریم داد خاموشی سے چائے کا کپ اس کے سامنے رکھتا ہے، پھر نہایت سادگی سے پوچھتا ہے:
"حاجی صاحب، اگر بازار گناہ کا ہے تو خریدار کون ہے؟”
یکایک دکان پر خاموشی اتر آتی ہے۔
باتوں کا شور تھم جاتا ہے۔
چائے کی پیالیوں سے اٹھتی بھاپ بھی جیسے رک جاتی ہے۔
سب نگاہیں حاجی بشیر کی طرف اٹھتی ہیں۔
وہ نظریں چرا کر جواب دیتا ہے:
"مرد کمزور ہوتے ہیں، شیطان بہکا دیتا ہے۔”
کریم داد ہلکا سا مسکراتا ہے۔
"عجیب بات ہے حاجی صاحب، شیطان کو ہر رات اس گلی کا راستہ صرف مردوں کے لئےہی یاد رہتا ہے۔”
کچھ لمحوں تک خاموشی چھائی رہتی ہے۔
اور بعض اوقات خاموشی، ہر دلیل سے زیادہ بلند آواز رکھتی ہے—–
ایک دن زینب کریم داد کی دکان پرچائے لینے آتی ہے۔
عمر زیادہ نہیں، مگر اس کی آنکھیں اپنی عمر سے کہیں زیادہ سفر کر چکی ہیں۔
کریم داد ہچکچاتے ہوئے پوچھتا ہے:
"تمہیں برا نہیں لگتا جب لوگ تمہیں کنجری کہتے ہیں؟”
زینب ہنس دیتی ہے۔
مگر وہ ہنسی خوشی کی نہیں ہوتی۔
وہ برسوں کی شکست، محرومی اور قبولِ تقدیر کا ایک مختصر نوحہ ہے۔
وہ کہتی ہے:
"برا تب لگتا اگر کسی نے کبھی کسی اور نام سے پکارا ہوتا۔”
پھر چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ کو دیکھتے ہوئے پوچھتی ہے:
"ایک بات پوچھوں؟”
"پوچھو۔”
یہ بھی پڑھیں: بے حس معاشرے کا اعلانِ وفات
زینب چند لمحے خاموش رہتی ہے، پھر دھیرے سے بولتی ہے:
"جو لوگ رات بھر ہمارے سامنے بیٹھتے ہیں، داد دیتے ہیں، نوٹ اچھالتے ہیں، اور صبح ہمیں کنجریاں کہتے ہیں… ان کے لیے کوئی لفظ کیوں نہیں بنا؟”
کریم داد جواب نہیں دے پاتا۔
اسے پہلی بار محسوس ہوتا ہے کہ کچھ سوال کتابوں میں نہیں ملتے۔
وہ معاشروں کے ضمیر میں دفن ہوتے ہیں —–
دسمبر کی ایک سرد رات ہے۔
گلی پر خاموشی برف کی مانند جمی ہوئی ہے۔
کوٹھے کے اندر زندگی کی آخری رمق باقی ہے۔
طبلے کی مدھم تھاپ اور گھنگھروؤں کی تھکی ہوئی جھنکار فضا میں تیر رہی ہے۔
چند تماشائی اب بھی بیٹھے ہیں۔
کچھ کی آنکھوں میں نشہ ہے۔
کچھ کی نگاہوں میں ہوس۔
یہ شہر کے وہی معزز لوگ ہیں جو رات کو رقص و سرور کی محفلوں میں دل بہلاتے ہیں اور صبح شرافت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔
اچانک گلی کے سرے پر گاڑیوں کی بریکیں چرچراتی ہیں۔
دروازے ایک ساتھ کھلتے ہیں۔
پھر ایک کڑکتی ہوئی آواز خاموشی چیر دیتی ہے:
"پولیس! کوئی بھاگنے نہ پائے!”
چند لمحوں میں محفل کا رنگ بدل جاتا ہے۔
جو لوگ ابھی داد دے رہے ہوتے ہیں، اب اپنے چہرے چھپانے لگتے ہیں۔
کوئی پچھلے دروازے کی طرف دوڑتا ہے۔
کوئی اندھیرے کونے میں دبک جاتا ہے۔
اور کوئی دیوار پھلانگنے کی کوشش میں گر پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت میں جڑتے دو دل
پولیس اندر داخل ہوتی ہے تو سب سے پہلے جس شخص کی شرافت زمین پر گرتی ہے، وہ حاجی بشیر ہے۔
اس کی پگڑی ٹیڑھی ہو چکی ہے۔
چہرے سے وقار کا نقاب اتر چکا ہے۔
اور آنکھوں میں وہ خوف تیر رہا ہے جو صرف بے نقاب ہونے والوں کا مقدر بنتا ہے۔
"خدا کے لیے… میرا نام کہیں نہ آنے دینا…”
وہ بار بار التجا کرتا ہے۔
آج پہلی بار اس کی آواز میں نصیحت نہیں، خوف بولتا ہے—–
اگلی صبح اخباروں کی سرخیاں چیخ رہی ہیں:
"بدنام زمانہ کوٹھے پر پولیس کا چھاپہ، کئی عورتیں گرفتار۔”
مگر کوئی اخبار یہ نہیں لکھتا کہ وہاں بیٹھا کون تھا۔
کس نے داد دی تھی۔
کس نے نوٹ نچھاور کیے تھے۔
اور کون رات کے اندھیرے میں اپنی عزت بچانے کی بھیک مانگ رہا تھا۔
خبر صرف عورتیں بنتی ہیں۔
تماشائی نہیں——
چند روز بعد …..
کوٹھا بند ہو جاتا ہے۔
لوگ اطمینان کا سانس لیتے ہیں۔
اخبار لکھتے ہیں:
"شہر ایک بڑی برائی سے پاک ہو گیا۔”
مگر شام ڈھلتے ہی کریم داد دیکھتا ہے کہ وہی چہرے، وہی نظریں اور وہی قدم کسی اور گلی کا راستہ ناپ رہے ہیں۔
تب اسے سمجھ آتی ہے کہ برائیاں عمارتوں میں نہیں بستیں۔
وہ خواہشوں میں بسی ہوتی ہیں۔
کوٹھے بند کرنے سے مجرے ختم نہیں ہوتے، صرف ان کے پتے بدلتے ہیں۔
وہ اخبار تہہ کرتا ہے، چائے کی ایک چسکی لیتا ہے اور آہستہ سے کہتا ہے:
"ہم ناچنے والی کو نام دیتے ہیں، تالی بجانے والے کو نہیں۔”
پھر زینب کا سوال اس کے ذہن میں گونجتا ہے:
"جو لوگ ہر رات ہمارا مجرا دیکھتے ہیں، ان کا کوئی نام کیوں نہیں ہوتا؟”
چائے کی پیالی سے بھاپ مسلسل اٹھ رہی ہے——
رات ایک بار پھر گلی پر اتر رہی ہے۔
اور اندھیرے کی اوٹ میں کچھ قدم پھر اسی سمت بڑھ رہے ہیں جہاں معاشرہ اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے اور اپنے فیصلوں کو بلند آواز میں سناتا ہے۔
-
پاکستان3 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان5 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان8 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

