Connect with us

برطانیہ اور یورپ

برطانیہ کے مقامی انتخابات، 7 مئی — ایک خاموش سیاسی زلزلہ

Muhammad Maqsood Khan Advocate

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ

لندن کی صبح اُس روز کچھ مختلف تھی۔
بارش نہیں ہو رہی تھی، مگر فضا میں نمی تھی۔ ویسٹ منسٹر کی قدیم عمارتوں کے اوپر بادل ایسے ٹھہرے ہوئے تھے جیسے صدیوں پرانی سلطنت اپنے ہی سائے میں کھڑی سوچ رہی ہو کہ آخر اُس کے لوگوں کے دلوں میں کیا بدل گیا ہے۔

سات مئی کے بلدیاتی انتخابات محض کونسلروں کے انتخاب نہیں تھے۔ یہ برطانوی عوام کے اندر کئی برسوں سے جمع ہوتی ہوئی خاموش بے چینی کا اظہار تھے۔ ایک ایسا اظہار، جو بیلٹ بکس کے ذریعے سامنے آیا اور جس نے لندن سے لے کر شمالی انگلینڈ کے صنعتی شہروں تک سیاست کی پرانی دیواروں میں دراڑیں ڈال دیں۔

یہ انتخابات ایک معمول کا جمہوری مرحلہ نہیں تھے۔ یہ برطانیہ کی بدلتی ہوئی روح کا اعلان تھے۔

کبھی یہی شہر تھے جہاں لیبر پارٹی مزدوروں کی امید سمجھی جاتی تھی۔ فیکٹریوں کے سائرن بجتے تھے، کان کن شام کو تھکے ہوئے گھروں کو لوٹتے تھے اور لیبر کا سرخ جھنڈا اُن کی محرومیوں کا ترجمان مانا جاتا تھا۔
مگر–
اب وقت بدل چکا ہے۔
ان انتخابات میں عوام نے صرف نمائندے نہیں بدلے، انہوں نے اپنی سیاسی وفاداریاں بدلنے کا اشارہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقامی بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو بڑا دھچکا، ریفارم یو کے کی حیران کن کامیابی، وزیراعظم اسٹارمر کے مستقبل پر سوالات

برطانیہ کے شمالی علاقوں، مڈلینڈز اور ساحلی قصبوں میں ایک نئی سیاسی لہر ابھرتی دکھائی دی۔ ریفارم یوکےنامی جماعت، جسے کبھی صرف احتجاجی سیاست کی آواز سمجھا جاتا تھا، اب باقاعدہ عوامی طاقت بنتی نظر آئی۔ کئی کونسلوں میں اس جماعت نے حیران کن کامیابیاں حاصل کیں۔ اُن علاقوں میں بھی جہاں کبھی کنزرویٹو یا لیبر کے علاوہ کسی تیسرے نام کا تصور ممکن نہ تھا۔
یہ محض ووٹوں کی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ غصے کی منتقلی تھی۔

عام برطانوی شہری مہنگائی، کمزور معیشت، بڑھتے ہوئے ٹیکس، رہائشی بحران، امیگریشن اور گرتی ہوئی عوامی سہولتوں سے تھک چکا ہے۔ لندن کی سیاسی اشرافیہ اور عام آدمی کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے۔ عوام کو محسوس ہونے لگا کہ ویسٹ منسٹر کے ایوان اُن کی زندگیوں سے بہت دور ہو چکے ہیں۔

اسی خلا میں ریفارم یوکےنے اپنی جگہ بنائی۔

اس جماعت نے خود کو اُن لوگوں کی آواز کے طور پر پیش کیا جو خود کو نظر انداز شدہ سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ جو محسوس کرتے ہیں کہ ملک بدل رہا ہے مگر اُن کے حق میں نہیں بدل رہا۔

دوسری طرف لیبر پارٹی، جو حالیہ برسوں میں اقتدار تک پہنچی تھی، ان انتخابات میں اپنی گرفت کمزور ہوتی محسوس کرتی رہی۔ پارٹی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ مخالفین مضبوط ہو گئے ہیں، بلکہ یہ تھا کہ اُس کا اپنا ووٹر بکھرنے لگا ہے۔

کہیں روایتی مزدور طبقہ ریفارم یو کے کی طرف چلا گیا۔ کہیں نوجوان ووٹر گرین پارٹی کی طرف مائل ہوئے۔ کہیں اقلیتی برادریوں نے آزاد امیدواروں کو ترجیح دی۔

یوں محسوس ہوا جیسے برطانوی سیاست کی پرانی دو جماعتی عمارت اب آہستہ آہستہ کئی حصوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دل کے شہر میں اترتی روشنی

ایک زمانہ تھا جب برطانیہ کی سیاست کو سمجھنا آسان تھا۔ یا تو لیبر، یا کنزرویٹو۔ مگر اب تصویر دھندلا رہی ہے۔ نئی جماعتیں، مقامی اتحاد، شناخت کی سیاست اور احتجاجی ووٹ مل کر ایک نئی سیاسی فضا تشکیل دے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین ان انتخابات کو بریگزٹ (برطانیہ کی یورپین یونین سے علیحدگی) کے بعد برطانیہ کی سب سے اہم سیاسی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

کیونکہ اب سوال صرف یہ نہیں کہ اگلا الیکشن کون جیتے گا۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا برطانیہ کا پرانا سیاسی نظام اپنی موجودہ شکل میں باقی رہ سکے گا؟

لندن کی رات جب گہری ہوئی تو ٹیلی وژن اسکرینوں پر بدلتے ہوئے نتائج چل رہے تھے۔ کچھ چہروں پر حیرت تھی، کچھ پر خوف، اور کچھ پر خاموش اطمینان۔

مگر–
برطانیہ کے عام ووٹر نے اُس رات شاید پہلی بار اتنی شدت سے محسوس کیا کہ اُس کا غصہ اب صرف ڈرائنگ روموں کی گفتگو نہیں رہا۔

وہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ چکا ہے۔
اور شاید یہی سات مئی کے انتخابات کی اصل کہانی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Nisar Hussain Nisar Hussain
تازہ ترین28 منٹس ago

جو اختیار میں نہیں، اس کا غم کیوں؟

تحریر: نثار حسین زندگی کا شاید سب سے بڑا مغالطہ یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی...

Minab School Minab School
تازہ ترین53 منٹس ago

میناب اسکول پر امریکی حملہ مصنوعی ذہانت کی غلط معلومات کا نتیجہ تھا، رپورٹ

میناب (صداۓ سچ نیوز) ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے اسکول پر امریکی حملے سے متعلق ایک نئی رپورٹ...

Faizabad Faizabad
پاکستان1 گھنٹہ ago

پی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ، فیض آباد میں تمام ہوٹلز بند کرادیے گئے

راولپنڈی (صداۓ سچ نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر فیض آباد میں تمام ہوٹلز بند...

netanyahu netanyahu
تازہ ترین1 گھنٹہ ago

جنرل اسمبلی، درجنوں ممالک نے نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ کردیا، ہال خالی ہوگیا

نیو یارک (صداۓ سچ نیوز) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران درجنوں...

Shahbaz-UN Shahbaz-UN
پاکستان2 گھنٹے ago

وزیراعظم کی یواین کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، عالمی و علاقائی امور پر گفتگو

نیویارک (صداۓ سچ نیوز) نیو یارک میں وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اہم...

Abbas Araghchi Abbas Araghchi
تازہ ترین2 گھنٹے ago

امریکا کو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کا 7 روزہ پلان پیش کر دیا، عباس عراقچی

نیویارک (صداۓ سچ نیوز) ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکا کو جنگ کے...

masoud-pezeshkian masoud-pezeshkian
تازہ ترین2 گھنٹے ago

ہم امن کے خواہاں ہیں، فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ تنازع ختم کرنا ہے یا نہیں، ایرانی صدر

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے سپریم...

u-s--china-relations u-s--china-relations
تازہ ترین2 گھنٹے ago

چین اور امریکا کے درمیان نئے مشترکہ تجارتی انتظام پر اتفاق

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ چین اور امریکا کے درمیان نئے مشترکہ...

plane plane
تازہ ترین2 گھنٹے ago

امریکی پابندیاں، یو اے ای نے ایرانی ائیرلائنز کی پروازیں معطل کردیں

ابوظہبی (سداۓ سچ نیوز) عرب میڈیا کے مطابق یو اے ای سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایرانی ائیرلائنز کی جانب...

US Senator US Senator
تازہ ترین2 گھنٹے ago

ریپبلکن ارکان ایران کیخلاف جنگ کی مخالفت کریں، امریکی سینیٹر

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ریپبلکن ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے حلقوں کے...

Trending