تازہ ترین
ٹھنڈے ہال، جلتے لوگ
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
جون کی دہکتی دوپہر اپنے پورے غضب کے ساتھ اسلام آباد پر جھکی ہوئی ہے۔
سورج یوں آگ برسا رہا ہے جیسے آسمان کے سینے پر کسی نے دہکتا ہوا تنور رکھ دیا ہو۔
فضا میں ایسی تپش گھلی ہے کہ سانس لینا بھی سزا محسوس ہوتا ہے۔
سڑکیں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح چمک رہی ہیں۔
درخت خاموش کھڑے ہیں، جیسے گرمی نے ان کی زبان بھی جلا دی ہو۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر انسانوں کا ایک ہجوم کھڑا ہے۔
تھکے ہوئے،
جھلسے ہوئے،
پسینے میں شرابور انسان…
کسی کے ہاتھ میں فریاد ہے،
کسی کے ہاتھ میں بجلی کا بل،
کسی کی جیب میں بیروزگاری کا زہر،
اور کسی کی آنکھوں میں بچوں کی بھوک کا خوف۔
ہر چہرہ ایک الگ کہانی ہے،
یہ بھی پڑھیں: ویسٹ منسٹر کے ایوانوں میں اترتی بغاوت
مگر ہر کہانی کا اختتام ایک ہی سوال پر ہوتا ہے:
“کیا اس ملک میں غریب پیدا ہونا واقعی جرم ہے؟”
لوہے کے جنگلے کے قریب ایک بوڑھا مزدور بیٹھا ہے۔
اس کے کپڑے میلے ہیں،
پاؤں کی ایڑیاں پھٹی ہوئی،
ہاتھوں کی رگیں ابھری ہوئی،
اور چہرہ ایسا جیسے برسوں کی دھوپ نے اس کی جلد پر غربت لکھ دی ہو۔
وہ خاموشی سے پارلیمنٹ کی بلند و بالا عمارت کو دیکھتا ہے۔
وہ عمارت…
جس کے شیشوں کے اندر ٹھنڈی ہوائیں گردش کر رہی ہیں،
جہاں قالین نرم ہیں،
جہاں کرسیاں آرام دہ ہیں،
جہاں اقتدار کی خوشبو پسینے کی بو کو داخل نہیں ہونے دیتی—-
پارلیمنٹ کےائیرکنڈیشنڈ ہال میں معزز اراکینِ اسمبلی اپنی نشستوں پر براجمان ہیں۔
مہنگے سوٹ،
ریشمی ٹائیاں،
چمکتے جوتے،
قیمتی گھڑیاں،
اور ہاتھوں میں ٹھنڈے منرل واٹر کی بوتلیں۔
ایک رکن رومال سے ماتھے پر آئی معمولی نمی صاف کرتا ہے،
جیسے گرمی صرف اس کے ماتھے تک پہنچی ہو،
دل تک نہیں۔
پھر اچانک میز بجتی ہے۔
ایک بلند آواز گونجتی ہے:
“ہم غریب عوام کا درد رکھتے ہیں…
ہم نے قربانیاں دی ہیں…
ہم عوام کے حقوق کی جنگ لڑتے رہیں گے…
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے مقامی انتخابات، 7 مئی — ایک خاموش سیاسی زلزلہ
یہ ملک عوام کی امانت ہے!”
ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے۔
ڈیسک بجتے ہیں۔
مسکراہٹیں پھیلتی ہیں۔
کچھ لوگ سر ہلاتے ہیں،
جیسے الفاظ سے انقلاب آ گیا ہو۔
مگر باہر—-
باہر سوا نیزے پر کھڑے سورج کے نیچے وہ بوڑھا مزدور اچانک ہنس دیتا ہے۔
ایسی ہنسی…
جس میں صدیوں کی تھکن چھپی ہو،
ایسی ہنسی…
جس کے پیچھے آنسو دم توڑ رہے ہوں۔
اس کے ساتھ کھڑا نوجوان حیرت سے پوچھتا ہے:
“بابا… کیوں ہنس رہے ہو؟”
بوڑھا دھیرے سے آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔
اس کی آنکھوں میں نمی تیرتی ہے۔
پھر وہ ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہتا ہے:
“پُتر…
جس دن غریب کا درد
ائیرکنڈیشن میں بیٹھ کر محسوس ہونے لگے نا…
سمجھ لینا قیامت قریب ہے…”
اتنے میں دھوپ اور تیز ہو جاتی ہے۔
قریب ہی ایک عورت اپنے بیمار بچے کو گود میں اٹھائے سایہ ڈھونڈ رہی ہے۔
بچے کے ہونٹ خشک ہیں،
آنکھیں اندر دھنس چکی ہیں،
اور اس کی سانس ایسے چل رہی ہے جیسے چھوٹا سا سینہ زندگی کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک گیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: مقامی بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو بڑا دھچکا، ریفارم یو کے کی حیران کن کامیابی، وزیراعظم اسٹارمر کے مستقبل پر سوالات
وہ بار بار صرف ایک لفظ کہتا ہے:
“پانی…”
مگر پانی بیچنے والے ٹھیلے پر جب عورت قیمت سنتی ہے،
تو اس کی آنکھوں میں امید کی آخری روشنی بھی بجھ جاتی ہے۔
وہ بچے کو سینے سے لگا لیتی ہے،
جیسے ممتا اپنی بے بسی چھپانے کی کوشش کر رہی ہو—-
اُسی لمحے…
پارلیمنٹ کے اندر ایک اور معزز رکن پوری طاقت سے نعرہ لگاتا ہے:
“ملک ترقی کر رہا ہے!”
فوراً میزیں بجتی ہیں۔
قہقہے بلند ہوتے ہیں۔
ٹائیاں سیدھی کی جاتی ہیں۔
کسی کے چہرے پر فخر ہے،
کسی کے لبوں پر کامیابی کی مسکراہٹ —–
باہر کھڑا مزدور بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔
سورج اب بھی آگ برسا رہا ہے۔
مگر یہ صرف موسم کی گرمی نہیں۔
ناانصافی کی گرمی ہے
محرومی کی حدت ہے،
جھوٹے وعدوں کی تپش ہے ،
یہ اس نظام کی آگ ہے
جس میں غریب ہمیشہ جلتا ہے
اور امیر ہمیشہ محفوظ رہتا ہے۔
بوڑھا ہونٹ کاٹتا ہے،
پھر آہستہ سے بڑبڑاتا ہے:
“یہ کیسا ملک ہے…؟
جہاں ووٹ دینے والا دھوپ میں جلتا ہے…
اور ووٹ لینے والا ایئر کنڈیشنڈ ہال میں بیٹھ کرقوم کا درد بیان کرتا ہے…”
اس کی آواز رندھ جاتی ہے۔
شاید لفظ بھی غربت کی طرح تھک جاتے ہیں—-
آہستہ آہستہ شام اترنے لگتی ہے۔
پارلیمنٹ کی روشنیاں جگمگا اٹھتی ہیں۔
سرکاری گاڑیوں کے دروازے بند ہوتے ہیں۔
سرخ بتیوں والی گاڑیاں ایک ایک کرکے روانہ ہونے لگتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دل کے شہر میں اترتی روشنی
اور سڑک کے کنارے بیٹھا وہ بوڑھا مزدور…
اب بھی پسینہ پونچھ رہا ہے۔
اسے اب یقین ہونے لگا ہے کہ اس ملک میں
سب سے سستا خون غریب کا ہے…
اور سب سے مہنگی چیز اقتدار کی کرسی۔
دور کسی مسجد سے اذانِ مغرب بلند ہوتی ہے۔
“اللهُ أکبر… اللهُ أکبر…”
فضا میں ہلکی سی خنکی گھلتی ہے۔
پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹتے ہیں۔
مگر اس بوڑھے ووٹر کے اندر ایک صحرا اب بھی دہک رہا ہے۔
ایک ایسا صحرا…
جہاں امید مر چکی ہے،
اعتماد دفن ہو چکا ہے،
اور خواب پیاس سے تڑپ رہے ہیں۔
وہ آخری بار پارلیمنٹ کی عمارت کو دیکھتا ہے۔
پھر دھیرے سے نظریں جھکا لیتا ہے۔
جیسے اسے آخرکار سمجھ آ گئی ہو کہ
اس ملک میں غریب صرف زندہ رہتا ہے…
جیتا کبھی نہیں۔
-
پاکستان2 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان3 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان5 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو7 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان2 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

