Connect with us

تازہ ترین

شخصیت کی تابکاری، قوم کی بیداری

Nida e Haq Article By Mehreen Faiza

تحریر: مہرین فائزہ

پاکستان کی تاریخ محض چند واقعات، چند تاریخی موڑ یا چند نعروں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک طویل اور مسلسل جدوجہد، فکری بیداری، تہذیبی شعور، سیاسی بصیرت اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری سے جڑی ایک عظیم داستان ہے۔ جس میں وقت کے ہر موڑ پر قربانی، حوصلہ، قیادت، امید، شعور اور کردار کی روشنی نظر آتی ہے۔

قوموں کی زندگی میں کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جو اُن کے مستقبل کا رخ متعین کرتے ہیں۔ کچھ ایسے دن ہوتے ہیں جو صرف تاریخ نہیں بلکہ ایک عہد اور ذمہ داری کی یاددہانی ہوتے ہیں اور کچھ ایسی شخصیات جن کا وجود محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک عہد، ایک نظریہ اور ایک تہذیبی شناخت کی علامت بن جاتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں سب سے روشن، باوقار، عظیم اور معتبر نام قائدِاعظم محمد علی جناح کا ہے جن کی شخصیت وقار، ایمان، نظم، دیانت، قانون پسندی، اصول پرستی، حوصلے، دانائی اور قیادت کی بہترین مثال تھی۔

9/11پر ماتمِ عالم، 6/11 پر سکوتِ عالم

یہی وجہ ہے کہ جب ہم پاکستان کی تاریخ، اُس کی جدوجہد اور اُس کے حاصل ہونے کے تمام مراحل پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں واضح طور پر نظر آتا ہے کہ یہ ملک کسی حادثے یا جذباتی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ قائدِاعظم کی دوراندیش قیادت، اُن کی ناقابلِ تسخیر عزم، اُن کی مضبوط شخصیت، اُن کی سیاسی حکمت عملی اور اُن کی اصولی جدوجہد کا ثمر ہے۔

آج جب ہم قائدِاعظم محمد علی جناح کی سالگرہ مناتے ہیں تو یہ محض ایک تاریخی دن کی یاد نہیں بلکہ یہ وہ لمحہ ہے جب قوم اپنے ضمیر سے سوال کرتی ہے، اپنے حال پر نظر ڈالتی ہے، اپنے مستقبل کا راستہ طے کرتی ہے اور اُس عظیم قائد کی شخصیت سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے جس نے ایک غلام قوم کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کی صورت میں ایک آزاد منزل عطا کی۔

قائدِاعظم محمد علی جناح کی شخصیت اس قدر جامع تھی کہ اُنہیں صرف ایک سیاست دان، صرف ایک وکیل، صرف ایک لیڈر یا صرف ایک جدوجہد کرنے والا رہنما کہنا اُن کے مقام کے ساتھ ناانصافی ہے۔وہ اصولوں کے مجسم پیکر تھے۔وہ کردار کی طاقت پر یقین رکھتے تھے۔

وہ قانون کی بالادستی کو ریاست کی بنیاد سمجھتے تھے۔اُن کی گفتگو میں اعتماد تھا۔ اُن کے مؤقف میں ٹھہراؤ تھا۔ اُن کی سوچ میں بصیرت تھی۔ اُن کی شخصیت میں سنجیدگی، ذمہ داری اور وقار کا امتزاج تھا۔انہوں نے کبھی وقتی مفاد یا وقتی سیاسی فائدے کو قوم کے مستقبل پر ترجیح نہیں دی۔

یہی اُن کی قیادت کا خاصہ تھا کہ وہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھاتے، کسی فیصلے سے پہلے حالات، اثرات اور نتائج کو سامنے رکھتے اور پھر جب فیصلہ کر لیتے تو اُس پر پہاڑ کی طرح جم جاتے۔ یہی قائدانہ صفات تھیں جنہوں نے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں اُن کے لیے اعتماد، یقین اور محبت پیدا کی۔

اُن کی شخصیت میں ایک ایسی اخلاقی طاقت تھی کہ اُن کے مخالف بھی اُن کے کردار کے معترف تھے۔ اُن کی قیادت نے مسلمانوں کو نظم و ضبط سکھایا، مقصد دیا، حوصلہ دیا اور ایک ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جو جذبات کے شور سے نہیں بلکہ شعور کی مضبوط بنیادوں پر کھڑی تھی۔

قائدِاعظم محمد علی جناح کے یومِ پیدائش کے موقع پر جب ہم اُن کی قیادت کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اُن کی لیڈرشپ محض سیاسی حکمتِ عملی تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک مکمل قومی معمار تھے۔انہوں نے صرف ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد نہیں کی بلکہ اُس ریاست کی فکری بنیادیں بھی واضح کیں۔

انہوں نے اتحاد کا درس دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ تقسیم شدہ قوم کبھی منزل تک نہیں پہنچتی۔انہوں نے تنظیم کی اہمیت بتائی کیونکہ بغیر نظم و ضبط کے قومیں انتشار میں بکھر جاتی ہیں اور انہوں نے یقینِ محکم کی تعلیم دی کیونکہ اُن کے نزدیک ایمان، عزم اور حوصلہ ہی کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اُن کی قیادت کے ہر مرحلے میں ہمیں یہ تینوں عناصر نمایاں نظر آتے ہیں، وہ کبھی گھبرائے نہیں، کبھی جھکے نہیں، کبھی سودا نہیں کیا، اُن کی ثابت قدمی نے اُن کے مخالفین کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ اُن کی سنجیدگی، عزم اور اصولی موقف کو تسلیم کریں۔

یہی مضبوط قیادت تھی جس نے مسلمانوں کو خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا، انہیں اپنی شناخت یاد دلائی، انہیں بتایا کہ وہ کسی کے رحم و کرم پر رہنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے بلکہ اُن کا حق ہے کہ وہ اپنی آزاد ریاست میں عزت اور وقار کی زندگی گزاریں۔ اُنہوں نے پاکستان کو ایک جدید، ترقی یافتہ، قانون کی حکمرانی والی ریاست کے طور پر دیکھا۔

اُن کے نزدیک پاکستان ایک تنگ نظر ریاست نہیں بلکہ ایک ایسا ملک ہونا چاہیے جہاں تمام شہری برابر ہوں، مذہب، ذات، زبان یا علاقے کی بنیاد پر کسی امتیاز کی گنجائش نہ ہو۔انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اقلیتیں پاکستان میں آزاد ہوں گی۔اُن کا مذہب اُن کا ذاتی معاملہ ہو گا۔ ریاست اُن کے حقوق کی محافظ ہو گی۔

وہ ایک ایسے پاکستان کے خواں تھے جہاں عدل و انصاف نظام کی بنیاد ہو، جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، جہاں سیاسی قیادت قوم کی امانت دار ہو، جہاں ریاست کے ادارے مضبوط ہوں، جہاں نوجوان تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں، جہاں عورت معاشرے کی باوقار شراکت دار ہو، جہاں غریب کو سہارا ملے، جہاں طاقتور جواب دہ ہو، جہاں معاشرہ برداشت، رواداری اور اخلاقی اقدار کی روشنی میں آگے بڑھے، یہ قائدِاعظم محمد علی جناح کا روشن وژن تھا جس کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا۔

مگر آج جب ہم اپنے حال پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ہم نے اس وژن سے دوری اختیار کی، ہماری سیاست ذاتی مفادات کے گرد گھومنے لگی، ہمارے ادارے کمزور ہوئے، ہمارا اتحاد متاثر ہوا، ہمارا معاشرہ عدم برداشت کی طرف بڑھنے لگا، ہمارے رویے اس وقار اور سنجیدگی سے محروم ہونے لگے جو قائدِاعظم محمد علی جناح کی شخصیت کی پہچان تھی۔

لیکن یہ دن ہمیں مایوس نہیں کرتا بلکہ امید دلاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وہ قوم جو کبھی بکھری ہوئی، کمزور، محروم اور مجبور تھی قائدِاعظم محمد علی جناح کی قیادت میں متحد ہو کر دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست قائم کر گئی۔ آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم صرف تقریبات، تقاریر اور رسمی جشن تک محدود رہیں گے یا واقعی قائدِاعظم محمد علی جناح کے وژن کو عملی شکل دیں گے۔

معاشرے میں انصاف، نظام میں شفافیت، سیاست میں دیانت، اداروں میں مضبوطی اور اپنی قومی سوچ میں وحدت پیدا کریں گے تاکہ جب آنے والی نسلیں بھی قائدِاعظم محمد علی جناح کی سالگرہ منائیں تو انہیں صرف تاریخ نہ پڑھنی پڑے بلکہ ایک مضبوط، باوقار، ترقی یافتہ اور متحد پاکستان حقیقت کی صورت میں نظر آئے۔

یہی ہمارے قائد کی شخصیت کا پیغام ہے، یہی ان کی قیادت کا عظیم اثر ہے اور یہی اُن کے روشن وژن کی امانت ہے جسے محفوظ رکھنا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Plane Plane
تازہ ترین41 منٹس ago

چنئی سے ابوظبی جانے والےطیارے میں ٹیک آف سے قبل آگ بھڑک اٹھی، بھارتی میڈیا

نیو دہلی (صداۓ سچ نیوز) بھارت کے شہر چنئی سے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی جانے والے طیارے میں...

karachi-property karachi-property
پاکستان46 منٹس ago

کراچی، رہائشی پلاٹوں کی کمرشل کیٹیگری میں تبدیلی پر عائد پابندی ختم

کراچی (صداۓ سچ نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں رہائشی پلاٹوں کو کمرشل کیٹیگری میں تبدیل کرنے پر پابندی...

donald-trump donald-trump
تازہ ترین2 گھنٹے ago

ایران کے ساتھ جنگ بندی وینٹی لیٹر پر ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پراجیکٹ فریڈم دوبارہ بڑے پیمانے پر شروع کرنے کی پھر دھمکی...

iran-flag iran-flag
تازہ ترین2 گھنٹے ago

نئےحملے کی صورت میں ممکنہ آپشنز میں 90 فیصد یورینیم افزودگی بھی ہو سکتی ہے، ایران

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی کا کہنا ہے...

us-israel-attack-iran us-israel-attack-iran
تازہ ترین2 گھنٹے ago

امریکا اور اسرائیل کی ایران کیخلاف جنگ کے دوران یو اے ای نے خفیہ طور پر ایران پر حملے کیے، وال اسٹریٹ جرنل

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے جنگ کے دوران...

Plane Plane
پاکستان3 گھنٹے ago

پاکستان نے نور خان ائیر بیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی کی خبروں کو گمراہ کن قرار دیدیا

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں نور خان ائیر...

Syed Abbas Haider Shah Advocate Syed Abbas Haider Shah Advocate
تازہ ترین15 گھنٹے ago

آبنائے ہرمز

تحریر: سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ دنیا کے نقشے پر بعض مقامات صرف جغرافیہ نہیں ہوتے، وہ تاریخ کے زندہ...

Adiala-Jail-Rawalpindi Adiala-Jail-Rawalpindi
پاکستان16 گھنٹے ago

راولپنڈی میں 15 دن کیلئے دفعہ 144 کا نفاذ، اڈیالہ جیل اور اطراف کا علاقہ ریڈ زون قرار

راولپنڈی (صداۓ سچ نیوز) راولپنڈی میں 15 دن کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔  اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن...

missiles missiles
تازہ ترین16 گھنٹے ago

جوہری میزائلوں سے لیس امریکا کی اوہائیو کلاس آبدوز جبرالٹر پہنچ گئی

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ کی جوہری میزائلوں سے لیس...

ship ship
تازہ ترین16 گھنٹے ago

قطری ایل این جی سے بھرا ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کے بعد واپس مڑ گیا، امریکی اخبار

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق قطری ایل این جی لے جانے والا...

Trending