پاکستان
عمران خان نے اپنی صحت سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان کی بات نہیں سنی جاتی، بہن عظمیٰ خان
اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) حکومت نے سپریم کورت کے عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ۔
تفصیلات کے مطابق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنا کریمنل جسٹس سسٹم کی اسکیم کو ڈسٹرب کرے گا، دیگر قیدی بھی جیل رولز کے خلاف اپنے لیے ایسا ہی برتاؤ مانگیں گے، سپریم کورٹ نے حکم واپس نہ لیا تو فلڈ گیٹ کھل جائے گا، سارے قیدی مرضی کے ہسپتال والا خصوصی سلوک مانگیں گے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس کیس میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر بھی فریق تھا، سپریم کورٹ نے کارروائی کے دوران اس بات کا نوٹس نہیں لیا ۔
درخواست کے مطابق سپریم کورٹ کافیصلہ ریکارڈ میں موجود واضح قانونی غلطیوں پرمبنی ہے، مجرم کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنا پاکستان پرزن رولز 1978 کے برخلاف ہے، جیل قوانین میں کسی قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرنے کا کوئی تصورنہیں، قانون کے تحت قیدیوں کا علاج جیل،سول یا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال میں ہو سکتا ہے۔
پرائیویٹ ہسپتال منتقلی سے قیدی کی سیکیورٹی،اثرورسوخ کے خدشات بڑھ جائیں گے، قیدی کی اپنی مرضی کے پرائیویٹ ڈاکٹر سے علاج کی ضد جیل قوانین سے مطابقت نہیں رکھتی ، سرکاری ڈاکٹرز انتہائی تجربہ کار پروفیسرز اور اپنے شعبوں کے بین الاقوامی ماہرین ہیں، چیف کمشنر اسلام آباد کو فریق بنائے اور نوٹس جاری کئے بغیر فیصلہ سنایا گیا۔
دوسرے فریق کو سنے بغیر فیصلہ دینا آئین کے آرٹیکل10 اے کے خلاف ہے، میڈیکل بورڈکی رپورٹ میں قیدی کی حالت تشویشناک ہونے کا ذکر نہیں تھا، میڈیکل رپورٹ پر تکنیکی ماہرین کی رائے لئے بغیر براہ راست فیصلہ نہیں دینا چاہیے تھا، سی آرپی سی کی دفعہ 561 اےکا اطلاق جیل انتظامیہ کے امور پر نہیں ہوتا۔
فوجداری اپیل سننے والی عدالت وہ اختیارات استعمال نہیں کرسکتی جو کوڈ میں درج نہ ہو، قید کے دوران نقل و حرکت اور ملاقاتوں کے حقوق قانونی طور پر محدود ہو جاتے ہیں، قیدی کو ہفتے میں 2 بار غیر ملکی ٹیلیفون کالز کی اجازت دینا پرزن رولز 265 کے خلاف ہے، عبوری ریلیف کے طور پر بنیادی اور حتمی استدعا منظور کرنا قانونی اصولوں کے منافی ہے، تمام چاروں استدعاؤں کو ابتدائی سطح پر ہی عبوری طور پر منظور کر لیا گیا جو قبل ازوقت ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ شب عمران خان کو میڈیکل چیک اپ کیلئے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا اور چند گھنٹوں کے بعد صبح 5 بجے واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ۔
ایک پیغام میں وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں قیدی کو 20 اور21 اگست کی درمیانی شب اسپتال لایا گیا، ماہرامراضِ چشم، امراض قلب اورفزیشن سمیت مستند ڈاکٹرز کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق ڈاکٹرز نے قیدی کو طبی طور پر صحت مند قرار دیا، طبی معائنے کےتمام مراحل کےدوران ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان موجود رہیں، تمام عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں 21 اگست کی صبح تقریبا5 بجےاڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔
عطاتارڑ نے کہا کہ بانی کا طبی معائنہ پمز اسپتال میں کرایا گیا،جس میں شفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے، پی ٹی آئی کارکنوں کیجانب سے شفا اسپتال کے راستے اور باہر سیکیورٹی صورتحال پیداکی گئی، اسی صورتحال کےپیش نظربانی پی ٹی آئی کو پمزاسپتال لے جایا گیا۔
وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ طبی معائنے کے مطابق بانی پی ٹی آئی صحت مند پائے گئے، بانی پی ٹی آئی کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں، اب بھی جب ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
-
برطانیہ اور یورپ5 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان5 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان8 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان6 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان11 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
پاکستان6 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
ایکسکلوسِو10 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان5 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا

