Connect with us

تازہ ترین

کیا دنیا کو بھی وائٹ ہاؤس کے فیصلے میں حصہ ملنا چاہیے؟

Muhammad Maqsood Khan Advocate

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ

دنیا کی سیاست اس وقت ایک ایسے سوال کے گرد گھوم رہی ہے جو بظاہر طنز لگتا ہے، مگر اس کے اندر ایک گہری حقیقت چھپی ہوئی ہے۔

واشنگٹن سے آنے والا ایک بیان دنیا بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ رہا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مضحکہ خیز بیان دیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کو امریکہ کی منظوری حاصل ہونی چاہیے، ورنہ وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا۔

یہ جملہ صرف ایک سیاسی بیان نہیں رہتا۔
یہ ایک سوال بن جاتا ہے۔
ایک ایسا سوال جو عالمی سفارت کاری کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کر رہا ہے۔

چند ہی گھنٹوں بعد تہران سے خبر آتی ہے کہ ایت اللہ خامینائی کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبی خامنائی کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔
تہران فوراً جواب دیتا ہے۔
ایرانی حکام کہتے ہیں:
“یہ ایران کا داخلی معاملہ ہے۔
کسی بیرونی طاقت کو یہ حق نہیں کہ وہ ہمیں بتائے کہ ہمارا رہنما کون ہوگا۔”
لیکن اس لمحے ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چراغِ کربلا کی روشنی میں تہران کی ایک رات

اور ——
یہ سوال دنیا بھر میں گونج رہا ہے۔
اگر ایک ملک کو دوسرے ملک کے رہنما کے انتخاب پر رائے دینے کا حق ہونا چاہیے —
تو کیا یہی اصول سب پر لاگو نہیں ہونا چاہیے؟
فرض کریں ڈونلڈ ٹرمپ کا اصول درست مان لیا جائے۔
پھر سوال اٹھتا ہے:

“کیا ایران کو بھی یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ امریکہ کا صدر کون ہو؟”
“کیا دنیا کے باقی ممالک کو بھی یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ طے کریں کہ وائٹ ہاؤس میں کون بیٹھے گا؟”
سوچئے اگر ایسا ہونے لگے۔

لندن میں کوئی شہری کہہ رہا ہو:
“اگر واشنگٹن کو ہمارے فیصلوں پر رائے دینے کا حق ہے تو ہمیں بھی ہونا چاہیے۔”

پیرس میں کوئی طالب علم کہہ رہا ہو:
“امریکی صدر کی پالیسیوں کا اثر ہم پر بھی پڑتا ہے، تو پھر ووٹ صرف امریکی کیوں دیں؟”

یہ بھی پڑھیں: چرواہے سے ایس ایس پی تک، ایک ماں کی نصیحت کی لازوال کہانی

بیجنگ میں کوئی تجزیہ کار مسکرا کر کہہ رہا ہو:
“اگر اصول یہی ہے تو پھر ریفرنڈم عالمی ہونا چاہیے۔”

اور تہران میں کوئی نوجوان طنزیہ انداز میں سوال کر رہا ہو:
“اگر امریکہ ہمارے سپریم لیڈر پر رائے دے سکتا ہے تو کیا ہمیں بھی یہ حق نہیں کہ ہم ریفرنڈم کریں —

کیا ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا صدر رہنا چاہیے یا نہیں؟”

تصور کیجیے ایک عالمی ریفرنڈم۔
استنبول کی گلیوں میں ووٹنگ بوتھ لگے ہوں۔
افریقہ کے کسی گاؤں میں کسان بیلٹ پیپر ڈال رہا ہو۔

جنوبی ایشیا کا کوئی طالب علم کہہ رہا ہو:
“آج ہم فیصلہ کریں گے کہ واشنگٹن کی طاقت کس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔”
یہ منظر بظاہر عجیب لگتا ہے۔
مگر اسی عجیب پن میں اصل سوال چھپا ہوا ہے۔
عالمی سیاست کا بنیادی اصول ہمیشہ قومی خودمختاری رہا ہے۔
اس اصول کے مطابق ہر ملک کو اپنے رہنما اور اپنے نظام کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اسی لیے تہران کا ردعمل سخت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سچ دب گیا، نعرہ جیت گیا، اداس نسلوں کی کہانی

ایرانی حکام کہتے ہیں:
“ایران کے سپریم لیڈر کا انتخاب ایرانی اداروں کا اختیار ہے۔
یہ فیصلہ واشنگٹن میں نہیں بلکہ تہران میں ہوتا ہے۔”

ادھر مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کشیدگی کے سائے میں کھڑا ہے۔
ایسے میں سیاسی بیانات صرف الفاظ نہیں رہتے — وہ عالمی تعلقات کے توازن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
اور اسی ہنگامے کے بیچ ایک سوال اب بھی فضا میں معلق ہے۔
ایک عام سا مگر خطرناک سوال۔

اگر طاقتور ممالک دوسروں کے فیصلوں میں رائے دینے کا حق مانگ سکتے ہیں —
تو کیا دنیا کے باقی ممالک کو بھی وہی حق نہیں ملنا چاہیے؟
کیا واقعی ایسا دن آ سکتا ہے جب دنیا کے تمام ممالک مل کر یہ ریفرنڈم کریں:
“کیا ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا صدر رہنا چاہیے یا نہیں؟”
شاید ایسا کبھی نہ ہو۔

مگر یہ سوال آج کی عالمی سیاست کے تضاد کو پوری شدت سے بے نقاب کر رہا ہے۔
طاقت اور اصول کے درمیان یہی کشمکش آج کی دنیا کی سیاست کی سب سے بڑی کہانی بن چکی ہے۔

           
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

whatsapp whatsapp
تازہ ترین3 گھنٹے ago

واٹس ایپ کا صارفین کیلئے اپنے انکرپٹڈ کلاؤڈ اسٹوریج کو متعارف کرانے کا فیصلہ

واٹس ایپ میں آپ کے چیٹ اور دیگر ڈیٹا کے بیک اپ کے لیے کلاؤڈ سروس کو استعمال کیا جاتا...

Supreme-Court-of-Pakistan Supreme-Court-of-Pakistan
پاکستان3 گھنٹے ago

عدالتوں میں اے آئی کے استعمال سے متعلق گائیڈ لائنز جاری

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے عدالتوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) استعمال سے...

chairman-nab chairman-nab
پاکستان3 گھنٹے ago

ملک ریاض کیخلاف 900 ارب کے زائد کے کیسز کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں،  چیئرمین نیب

راولپنڈی (صداۓ سچ نیوز) چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا...

plane plane
پاکستان3 گھنٹے ago

پاک فضائیہ کی جانب سے چینی طیاروں سے بھارتی طیارے گرانے کے بعد چینی کمپنی کے طیاروں کی فروخت دگنی ہوگئی

بیجنگ (صداۓ سچ نیوز) بھارت کے ساتھ جنگ میں پاک فضائیہ کی جانب سے چینی طیاروں کے ذریعے رافیل سمیت...

king-charles king-charles
تازہ ترین3 گھنٹے ago

اگربرطانیہ نہ ہوتا تو امریکا میں لوگ آج فرانسیسی بول رہے ہوتے، برطانوی بادشاہ کا ٹرمپ کوکرارا جواب

لندن (صداۓ سچ نیوز) برطانوی بادشاہ کنگ چارلس نے یورپ کو طعنہ دینے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کرارا...

german chancellor frederick marz german chancellor frederick marz
تازہ ترین4 گھنٹے ago

ایران کے ساتھ تنازع میں امریکا کو سبکی کا سامنا ہے, جرمن چانسلر

برلن (صداۓ سچ نیوز) جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع میں امریکا کو سبکی...

white-house white-house
تازہ ترین4 گھنٹے ago

امریکی مذاکرات کار ایران کیساتھ رابطے میں ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

واشنگٹن(صداۓ سچ نیوز) وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی مذاکرات کار ایران کے ساتھ رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہیں،...

pentagon pentagon
تازہ ترین4 گھنٹے ago

پینٹاگون کا جدید میزائل خطرات کیخلاف مؤثر دفاعی صلاحیت سے محرومی کا اعتراف

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے ایران جنگ کے تناظر میں ایک اہم اعتراف کرتے ہوئے کہا...

gold gold
پاکستان7 گھنٹے ago

عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں مسلسل دوسرے روز سونے کی قیمت میں پھر بڑی کمی

کراچی (صداۓ سچ نیوز) عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں مسلسل دوسرے روز سونے کی قیمت میں پھر بڑی کمی...

plastic-bags-ban plastic-bags-ban
پاکستان8 گھنٹے ago

پنجاب بھر میں پلاسٹک فری زونز کے قیام کا فیصلہ، بڑے بازاروں میں عملی نفاذ شروع

لاہور (صداۓ سچ نیوز) لاہورسمیت پنجاب بھرمیں پلاسٹک فری زونز کے قیام کا فیصلہ،بڑے بازاروں میں عملی نفاذ شروع کردیاگیا۔...

Trending