پاکستان
حقیقی صحافت کا خاتمہ
تحریر : یاسر اقبال مغل لوٹن یوکے
ہر مہذب معاشرے میں صحافت کو عوام کی آواز سمجھا جاتا ہے۔ ایک سچے صحافی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوام کی نمائندگی کرے، ناانصافی کو بے نقاب کرے، اور بغیر کسی خوف یا جانبداری کے حقائق پیش کرے۔ لیکن موجودہ دور میں حقیقی صحافت دن بہ دن ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ آج ہم قومی اور بین الاقوامی ٹی وی چینلز پر جو کچھ دیکھتے ہیں، وہ صحافت کم اور سیاسی مفادات اور ذاتی ایجنڈوں کی تشہیر زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
آج کل بہت سے صحافی عوام کے حقیقی مسائل اجاگر کرنے کے بجائے سیاسی جماعتوں کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ بے روزگاری، غربت، مہنگائی، تعلیم، صحت، اور سماجی ناانصافی جیسے اہم مسائل پر گفتگو کرنے کے بجائے ٹی وی مباحثے سیاسی لڑائیوں، الزام تراشی، اور سنسنی خیزی سے بھرے ہوتے ہیں۔ نیوز چینلز سچائی کے بجائے ریٹنگ کی دوڑ میں مصروف ہیں، جبکہ صحافی غیر جانبدار رپورٹرز کے بجائے سیاسی نمائندے دکھائی دیتے ہیں۔
صحافت کی بنیادی ذمہ داری عوام کو ایمانداری اور غیر جانبداری کے ساتھ معلومات فراہم کرنا ہے۔ بدقسمتی سے جدید میڈیا طاقت، دولت، اور سیاسی دباؤ کے شدید اثر میں آ چکا ہے۔ بہت سے صحافی اب اقتدار میں موجود افراد سے مشکل سوالات پوچھنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ تعلقات اور ذاتی مفادات کا تحفظ سچائی کے تحفظ سے زیادہ اہم بن چکا ہے۔ نتیجتاً عوام کا صحافت پر اعتماد تیزی سے کم ہو رہا ہے۔
سوشل میڈیا نے بھی اس بحران میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جھوٹی معلومات بہت تیزی سے پھیلتی ہیں، اور کئی میڈیا ادارے تصدیق شدہ حقائق کے بجائے وائرل مواد پر توجہ دیتے ہیں۔ توجہ حاصل کرنے کی دوڑ میں اخلاقی صحافت کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ معاشرے کے سنجیدہ مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں جبکہ غیر ضروری تنازعات سرخیوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں ایماندار صحافت نہ ہو، شدید خطرات کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب میڈیا عوام کی نمائندگی کرنا چھوڑ دے تو کرپشن مضبوط ہو جاتی ہے اور عام شہریوں کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ صحافت کا مقصد سچائی اور شعور کے ذریعے معاشرے کو متحد کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مفادات کے لیے لوگوں کو تقسیم کرنا۔
موجودہ صورتحال کے باوجود امید ابھی باقی ہے۔ دنیا میں اب بھی کچھ بہادر صحافی موجود ہیں جو ایمانداری سے رپورٹنگ کرتے ہیں اور سچائی کا ساتھ دیتے ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اگر دیانت داری اور پیشہ ورانہ اصولوں کو دوبارہ ترجیح دی جائے تو صحافت اب بھی معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔
آخر میں، حقیقی صحافت کا خاتمہ ہمارے دور کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ میڈیا اداروں اور صحافیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی ذمہ داری سیاسی جماعتوں یا ذاتی مفادات کی خدمت نہیں بلکہ سچائی اور عوام کی خدمت کرنا ہے۔ صرف اسی صورت میں صحافت اپنی کھوئی ہوئی ساکھ دوبارہ حاصل کر سکتی ہے اور اپنے اصل مقصد کو پورا کر سکتی ہے۔
-
پاکستان2 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان3 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان5 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو7 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان2 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

