پاکستان
پاکستان کو چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط اداروں اور قابلِ عمل پالیسیوں کی ضرورت، آئی پی ایس فورم
اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) پاکستان کو درپیش پیچیدہ قومی و بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط اداروں، بہتر طرزِ حکمرانی، شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی اور مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ ملک کو ٹیکنالوجی، زراعت، بحری امور، علاقائی روابط اور بدلتے ہوئے تزویراتی ماحول میں پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ دیرینہ سماجی و معاشی مسائل کے حل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) کے نیشنل ایڈوائزری کونسل کے سالانہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں، سفارت کاروں، ٹیکنوکریٹس اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے پاکستان کے مستقبل کے لیے دوراندیش، عملی، پائیدار اور قابلِ عمل حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔
اجلاس کی صدارت آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان نے کی جبکہ وائس چیئرمین آئی پی ایس سفیر (ر) سید ابرار حسین نے نظامت کی۔ اجلاس نے آئی پی ایس کے آئندہ تحقیقی ایجنڈے کے لیے بھی فکری رہنمائی فراہم کی۔
اجلاس سے جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور، جج وفاقی شرعی عدالت؛ ڈاکٹر انیس احمد، وائس چانسلر رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی؛ سفیر (ر) سردار مسعود خان، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر؛ لیفٹیننٹ جنرل (ر) ہدایت الرحمٰن، چیئرمین آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن؛ اویس احمد غنی، سابق گورنر خیبر پختونخوا؛ پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز، سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل؛ وائس ایڈمرل (ر) افتخار احمد راؤ؛ سید ابو احمد عاکف، سابق وفاقی سیکریٹری؛ ڈاکٹر سید کلیم امام، سابق وفاقی سیکریٹری و آئی جی پولیس؛ سفیر (ر) مسعود خالد؛ پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد، سابق چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن؛ ڈاکٹر سید طاہر حجازی، سابق ممبر پلاننگ کمیشن؛ پروفیسر ڈاکٹر انور الحسن گیلانی، سابق چیئرمین پاکستان کونسل برائے سائنس و ٹیکنالوجی؛ ڈاکٹر سید محمد جنید زیدی، سابق ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی؛ ڈاکٹر مسعود محمود خان، کرٹن یونیورسٹی آسٹریلیا؛ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ حمید، سابق وائس چانسلر فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی؛ پروفیسر ڈاکٹر اسد زمان، سابق وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس؛ سفیر (ر) میجر جنرل (ر) ڈاکٹر نول کھوکھر؛ نوفل شاہ رخ، پالیسی تجزیہ کار و سی ای او میوکام؛ اور ڈاکٹر نوید بٹ، سابق سربراہ شعبہ، وفاقی حکومت سروسز ہسپتال نے خطاب کیا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ نائن الیون کے بعد عالمی نظام میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جبکہ پاکستان کو بدستور حکمرانی، معاشی، موسمیاتی اور سلامتی کے چیلنجز درپیش ہیں۔
طرزِ حکمرانی کے حوالے سے شرکاء نے کہا کہ مسائل کا حل محض نئے صوبے بنانے یا انتظامی حدود کی ازسرنو تقسیم میں نہیں۔ حکمرانی کو عوام کے قریب لانے، بلدیاتی و شہری اداروں کو مضبوط بنانے، سیاسی مداخلت کم کرنے اور فیصلہ سازی و خدمات کی فراہمی کے لیے شفاف نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ تیزی سے بڑھتی شہری آبادی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے چارٹر سٹیز کے تصور پر بھی غور کیا گیا۔
زراعت کو معیشت، برآمدات، روزگار اور غذائی تحفظ کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے درآمدات، بالخصوص خوردنی تیل ،پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے پانی و آبپاشی کے بہتر انتظام، فصلوں کی مؤثر منصوبہ بندی، کاشت کاروں کی معاونت، زرعی مداخل کی نگرانی، اسمگلنگ کے تدارک اور زرعی پیداوار کی ویلیو چینز کو مؤثر بنانے کی تجاویز دیں۔ غذائی تحفظ کے لیے غذائی اجزا سے بھرپور فصلیں، خوراک کی غذائیت میں اضافہ، گھریلو باغبانی، اسکولوں میں خوراک کی فراہمی اور خوراک کے معیار کے بہتر نظام کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔
مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے جامع قومی مصنوعی ذہانت روڈ میپ، مضبوط ڈیٹا نظام، باہم مربوط سرکاری ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، کم لاگت کمپیوٹنگ اور مقامی زبانوں و مخصوص شعبوں کے لیے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔
بحری شعبے پر گفتگو میں ملکی جہاز رانی کے محدود کردار پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور قومی و نجی شعبے کی جہاز رانی کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت اجاگر کی گئی۔ میری ٹائم ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل درآمد، ادارہ جاتی جواب دہی اور قومی جہاز رانی کی پالیسی پر ازسرنو توجہ دینے پر زور دیا گیا۔
خارجہ تعلقات اور تزویراتی امور کے حوالے سے شرکاء نے پالیسی سازی سے آگے بڑھ کر عملی، مالیاتی طور پر قابلِ تعین اور قابلِ پیمائش اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ بدلتے عالمی نظام، بڑی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور افغانستان کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
تعلیم میں مؤثر عمل درآمد، ادارہ جاتی اصلاحات، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، باہمی تعاون اور مشاورت کی ضرورت پر زور دیا گیا، جبکہ ضرورت سے زیادہ مرکزیت اور ادارہ جاتی مداخلت سے گریز کی ہدایت کی گئی۔
شرکاء نے بدلتے سماجی حالات، خاندانی تنازعات، نسلوں کے درمیان بڑھتے فاصلے، ہجرت اور بدلتی توقعات کے تناظر میں خاندانی نظام کا بھی جائزہ لیا اور تحقیق، والدین کی تربیت، ازدواجی مشاورت، نوجوانوں و خواتین کی شمولیت اور خاندان کو مدنظر رکھنے والی قانون سازی کی ضرورت اجاگر کی۔
فورم میں پاکستان کے اپنے فکری و ثقافتی تناظر سے ہم آہنگ پالیسی سازی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ شرکاء نے نوآبادیاتی اور یورومرکزی فکری سانچوں پر انحصار کم کرکے اسلامی فکر سے ہم آہنگ علمی طریقہ ہائے کار اپنانے کی ضرورت اجاگر کی۔ اسلامی بینکاری کے حوالے سے بھی رسمی سود سے پاک انتظامات سے آگے بڑھ کر وسیع تر سماجی و معاشی مقاصد کے حصول پر توجہ دینے کی تجویز دی گئی۔
اختتام پر شرکاء نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل ابھرتے ہوئے رجحانات کا بروقت ادراک کرنے، ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور علمی و تحقیقی بصیرت کو قابلِ عمل حل میں تبدیل کرنے سے وابستہ ہے۔
-
برطانیہ اور یورپ6 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان6 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان8 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان6 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان11 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو11 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان7 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان6 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا

