Connect with us

تازہ ترین

مریم نواز، چین اور پنجاب

Sajjad Hussain Bhatti

تحریر ۔ سجاد حسین بھٹی

کبھی کسی صوبے کی ترقی کا تصور بڑی سڑکوں، پلوں، کارخانوں اور بجلی کے منصوبوں سے وابستہ ہوتا تھا۔ پھر دنیا نے کروٹ بدلی تو معیشت کی بنیاد مشینوں سے نکل کر ٹیکنالوجی، ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، جدت، ہنرمند افرادی قوت اور علم تک جا پہنچی۔

آج جو خطے دنیا کی معیشت کی سمت متعین کر رہے ہیں، ان کے پاس صرف وسائل نہیں بلکہ وسائل کو استعمال کرنے کا جدید ترین علم بھی موجود ہے۔ چین اسی تبدیلی کی ایک بڑی مثال ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا حالیہ دورہ چین محض ایک رسمی سرکاری دورہ محسوس نہیں ہوتا۔ اس دورے میں ایک طرف پنجاب نے اپنی زرعی طاقت، صنعتی استعداد، نوجوان افرادی قوت اور سرمایہ کاری کے امکانات دنیا کی بڑی معیشت کے سامنے رکھے تو دوسری طرف چین کے ان تجربات کو قریب سے دیکھنے کی کوشش کی گئی جنہوں نے ایک نسبتاً پسماندہ خطے کو جدید صنعت، ٹیکنالوجی، زراعت، ڈیجیٹل گورننس اور عالمی تجارت کا اہم مرکز بنا دیا۔

مریم نواز شریف کا سب سے اہم پیغام شاید یہی تھا کہ پنجاب مستقبل میں صرف ٹیکنالوجی خریدنے والا صوبہ نہیں ہوگا بلکہ ٹیکنالوجی کی تخلیق، جدت اور استعمال میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

یہ ایک جملہ نہیں، دراصل پنجاب کے مستقبل کی سمت متعین کرنے والی سوچ ہے۔ چین کے صوبہ گوئیژو کے دارالحکومت گویانگ میں منعقد ہونے والی بگ ڈیٹا ایکسپو میں مریم نواز شریف نے جس انداز میں ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل گورننس اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کی بات کی، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پنجاب کی ترقی کا اگلا مرحلہ صرف اینٹ، سیمنٹ اور سڑک تک محدود نہیں رہنے والا۔

اب بات ڈیٹا کی ہوگی، مصنوعی ذہانت کی ہوگی، جدید صنعتی نظام کی ہوگی اور اس نوجوان نسل کی ہوگی جو آنے والے برسوں میں پنجاب کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔

چین کا سفر اگر صرف چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت دینے تک محدود ہوتا تو شاید اسے ایک معمول کا اقتصادی دورہ کہا جا سکتا تھا۔ لیکن اس دورے کی خاص بات یہ رہی کہ پنجاب کے وفد نے چین کے مختلف شعبوں کے عملی ماڈلز کو بھی دیکھا۔ سنکیانگ میں زراعت، آبپاشی اور لائیوسٹاک کے جدید طریقوں پر گفتگو ہوئی۔ چینی حکام کے ساتھ جدید ایریل وہیکلز، واٹر لیولنگ، ڈیجیٹل کراپ مانیٹرنگ، جدید آبپاشی اور آزمودہ بیجوں کے استعمال پر اتفاق رائے سامنے آیا۔ پنجاب نے کارپوریٹ فارمنگ میں سنکیانگ کے تجربات سے استفادہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

یہ بات بظاہر زرعی شعبے کی ایک تکنیکی تفصیل محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اندر پنجاب کے مستقبل کی ایک بڑی ضرورت پوشیدہ ہے۔ پنجاب پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ گندم ہو یا مکئی، گنا ہو یا چاول، ملک کی خوراک کا بڑا حصہ پنجاب کی زمین سے نکلتا ہے۔

مگر اب صرف زیادہ پیداوار کافی نہیں۔ آنے والا وقت کم پانی سے زیادہ پیداوار، کم لاگت سے بہتر پیداوار، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ اور زرعی پیداوار کو عالمی معیار کی ویلیو چین میں تبدیل کرنے کا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں چین کا تجربہ پنجاب کے لئے غیر معمولی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ پنجاب کی زراعت کا سب سے بڑا مسئلہ اب صرف زمین نہیں، پانی بھی ہے۔ آبادی بڑھ رہی ہے، شہری پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، موسمی حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور زرعی ضروریات بھی بڑھ رہی ہیں۔ ایسے میں روایتی طریقہ آبپاشی ہمیشہ قابل عمل نہیں رہ سکتا۔

مریم نواز شریف نے چین کے ساتھ واٹر ایفیشنٹ ایریگیشن، ڈرپ ایریگیشن، جدید واٹر لیولنگ اور خشک علاقوں میں سائنسی طریقوں سے پانی کے استعمال کے حوالے سے تعاون کی بات کی ہے۔

اگر یہ خیالات منصوبوں میں تبدیل ہوتے ہیں تو پنجاب کے لئے اس کے اثرات کسی ایک فصل یا ایک علاقے تک محدود نہیں ہوں گے۔ پانی کی بچت کا مطلب کسان کی لاگت میں کمی، بہتر پیداوار، زمین کی طویل المدت صحت اور خوراک کے تحفظ کی طرف ایک قدم ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ پنجاب کی شراکت داری کو محض سرمایہ کاری کے تناظر میں دیکھنا شاید اس دورے کی اصل روح کو محدود کرنا ہوگا۔

یہاں اصل چیز ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تجربے کا تبادلہ بھی ہے۔ سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی ٹائرن وزڈم ڈیری ورکس کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ مریم نواز شریف نے ڈیری فارمنگ، دودھ کی پروسیسنگ اور مختلف ملک پروڈکٹس کی تیاری کے جدید نظام کا جائزہ لیا۔

پنجاب میں مویشی موجود ہیں، دودھ کی پیداوار موجود ہے، کسان موجود ہے اور دیہی معیشت موجود ہے۔ کمی اگر ہے تو جدید مینجمنٹ، کولڈ چین، پراسیسنگ، پیکیجنگ، معیار، مارکیٹنگ اور ویلیو ایڈیشن کے مربوط نظام کی۔ یہاں بھی چین کا تجربہ پنجاب کے لئے ایک بڑا موقع بن سکتا ہے۔

اگر پنجاب میں چینی تعاون سے جدید ملک اور ڈیری پراسیسنگ یونٹس قائم ہوتے ہیں تو دودھ صرف ایک خام زرعی پیداوار نہیں رہے گا بلکہ دہی، پنیر، ملک پاؤڈر، دیگر ڈیری مصنوعات اور برآمدی اشیا میں تبدیل ہو کر زیادہ معاشی قدر پیدا کر سکتا ہے۔ اس پورے عمل میں سب سے بڑا فائدہ دیہی معیشت کو ہوگا۔ مریم نواز شریف نے دیہی خواتین کی مالی خودمختاری اور مویشیوں کی افزائش نسل کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا ہے۔

اگر لائیوسٹاک کو جدید ڈیری، میٹ پروڈکشن، افزائش نسل اور پراسیسنگ سے جوڑ دیا جائے تو دیہات میں روزگار اور آمدن کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ چین میں دیکھا گیا ماڈل پنجاب کے لئے اسی سمت ایک عملی سبق فراہم کرتا ہے۔ چین کے ساتھ پنجاب کی معاشی شراکت داری کا دوسرا بڑا رخ صنعت اور سرمایہ کاری ہے۔ گویانگ میں ہونے والی بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس میں پنجاب نے خود کو چینی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک ایسے خطے کے طور پر پیش کیا جو مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ کے لئے موزوں ہو سکتا ہے۔

یہ دعویٰ صرف جغرافیہ کی بنیاد پر نہیں کیا گیا۔ پنجاب کے پاس 40 ہزار سے زائد مینوفیکچرنگ صنعتی یونٹس، بڑی ٹیکسٹائل اور انجینئرنگ بیس، گوجرانوالہ ،سیالکوٹ اور فیصل آباد جیسے عالمی برآمدی کلسٹرز، وسیع صارف مارکیٹ اور بڑی نوجوان افرادی قوت موجود ہے۔

پنجاب کی سب سے بڑی طاقت اس کا جغرافیائی محل وقوع بھی ہے۔ موٹرویز، سڑکوں اور سی پیک سے جڑا ہوا یہ صوبہ پاکستان کے اندر ہی نہیں بلکہ چین، ایران، خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی منڈیوں تک رسائی کے لئے ایک اہم تجارتی راستہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چینی کمپنیوں کو پنجاب میں پیداوار منتقل کرنے، تکنیکی مہارت منتقل کرنے اور خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت اسی بڑے تصور کا حصہ ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ چین پنجاب میں کیوں آئے گا؟ اس کا جواب صرف مراعات نہیں۔ جواب یہ ہے کہ پنجاب ایک بڑی مارکیٹ، بڑی ورک فورس، صنعتی بنیاد، زرعی خام مال، برآمدی کلسٹرز اور علاقائی رسائی کا مجموعہ ہے۔ اگر ان تمام عوامل کو درست پالیسی، بہتر انفراسٹرکچر، توانائی، سکیورٹی، تیز رفتار سرکاری اجازت ناموں اور مستحکم کاروباری ماحول کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو پنجاب واقعی ایک بڑے مینوفیکچرنگ بیس میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

پنجاب کا سب سے بڑا اثاثہ شاید اس کی زمین یا صنعت نہیں بلکہ اس کی آبادی ہے۔ تقریباً 128 ملین افراد کی مارکیٹ کسی بھی عالمی سرمایہ کار کے لئے معمولی چیز نہیں۔ اس کے ساتھ 48 ملین کے قریب نوجوان افرادی قوت پنجاب کو ایک ایسی جگہ بناتی ہے جہاں سرمایہ کاری صرف مارکیٹ نہیں بلکہ انسانی وسائل بھی حاصل کرتی ہے۔ یہی نوجوان اگر روایتی مزدوری کے بجائے جدید تکنیکی مہارت، مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ، مینوفیکچرنگ، روبوٹکس، ڈیجیٹل سروسز، ای کامرس اور جدید زراعت میں تربیت حاصل کریں تو پنجاب کی معاشی طاقت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

دنیا اب سستی مزدوری نہیں، ہنرمند مزدور چاہتی ہے۔ یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ایک نوجوان اگر صرف ہاتھ سے کام کرنا جانتا ہے تو وہ ایک محدود معیشت کا حصہ ہے، لیکن اگر وہ مشین چلا سکتا ہے، ڈیٹا پڑھ سکتا ہے، مصنوعی ذہانت استعمال کر سکتا ہے، جدید زرعی آلات چلا سکتا ہے یا عالمی مارکیٹ کے لئے کوئی مصنوعات تیار کر سکتا ہے تو وہ معیشت کا اثاثہ بن جاتا ہے۔ مریم نواز شریف کے دورہ چین کا سب سے جدید اور شاید سب سے دور رس پہلو ڈیجیٹل گورننس ہے۔ گوئیژو میں چین کے نیشنل بگ ڈیٹا پائلٹ زون کا جائزہ لینے والے پنجاب کے وفد نے دیکھا کہ کس طرح ڈیٹا کو محض محفوظ کرنے کے بجائے حکومتی فیصلوں، شہری سہولیات، صنعت، ماحولیات، سمارٹ لاجسٹکس اور مصنوعی ذہانت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پنجاب کے وفد نے خاص طور پر ماحولیاتی نگرانی اور سموگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

یہ وہ شعبہ ہے جہاں پنجاب کو واقعی ایک بڑی چھلانگ لگانے کی ضرورت ہے۔ آج کے دور میں حکومت کے پاس معلومات کی کمی نہیں، اصل مسئلہ معلومات کو بروقت فیصلے میں تبدیل کرنا ہے۔ کسی شہر میں ٹریفک کہاں زیادہ ہے؟ کون سے علاقے میں پانی کی ضرورت زیادہ ہے؟ کون سا علاقہ آلودگی سے زیادہ متاثر ہے؟ کہاں ہسپتال کی ضرورت ہے؟ کہاں اسکول کی ضرورت ہے؟ کون سا علاقہ سیلاب کے خطرے میں ہے؟ کون سی فصل کو کتنے پانی کی ضرورت ہے؟ اگر ان سوالات کے جواب ڈیٹا، سیٹلائٹ، مصنوعی ذہانت اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ سے حاصل کئے جائیں تو حکمرانی کا پورا انداز بدل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مریم نواز شریف کا یہ کہنا کہ پنجاب ٹیکنالوجی کا محض صارف نہیں بلکہ اس کی تخلیق اور جدت میں شراکت دار بننا چاہتا ہے، ایک اہم پالیسی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔

پنجاب میں سموگ محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا۔ یہ صحت، معیشت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا چیلنج بن چکا ہے۔ چین کے بگ ڈیٹا ماڈل سے پنجاب کو ماحولیاتی نگرانی میں مدد مل سکتی ہے۔ سینسرز، سیٹلائٹ ڈیٹا، ریئل ٹائم مانیٹرنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے آلودگی کے ذرائع کی زیادہ درست نشاندہی ممکن ہے۔ اسی طرح جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے ریموٹ مانیٹرنگ اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا استعمال ایک نیا راستہ کھول سکتا ہے۔ یعنی جس ٹیکنالوجی کو آج ہم صرف موبائل فون، کمپیوٹر یا انٹرنیٹ کے حوالے سے دیکھتے ہیں، وہ دراصل آنے والے وقت میں جنگلات، فصلوں، پانی، ہوا، شہروں اور انسانی زندگی کے انتظام کا بنیادی ذریعہ بن سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت اب کسی فلم یا سائنس فکشن کی چیز نہیں رہی۔ یہ دنیا کی معیشت، تعلیم، صحت، صنعت اور سرکاری نظام کو تبدیل کر رہی ہے۔پنجاب اگر اس تبدیلی سے پیچھے رہ گیا تو آنے والی دہائی میں اس کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر پنجاب نے نوجوانوں کو اے آئی کی تربیت دی، یونیورسٹیوں کو صنعت سے جوڑا، ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے مواقع دیے، ڈیٹا انفراسٹرکچر بنایا اور سرکاری نظام میں مصنوعی ذہانت کو ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کیا تو یہی نوجوان پنجاب کو جنوبی ایشیا کی ایک بڑی ڈیجیٹل معیشت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ چین کے ساتھ پنجاب کی شراکت داری کو اسی بڑے مستقبل کی طرف اشارہ سمجھا جا سکتا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے خصوصی اقتصادی زونز میں ڈیوٹی فری سہولت، ٹیکس مراعات، طویل مدتی لیز، ون ونڈو آپریشن، انویسٹر فیسیلیٹیشن سنٹر، چائنا ڈیسک اور دیگر سہولتوں کا اعلان خوش آئیند اقدام ہے۔ چینی سرمایہ کار کو اگر لاہور سے فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ یا کسی اور صنعتی مرکز تک اپنا منصوبہ شروع کرنے میں کم سے کم رکاوٹ کا سامنا ہو، اسے فوری فیصلہ ملے اور اسے معلوم ہو کہ حکومت اس کے ساتھ کھڑی ہے تو سرمایہ کاری کے امکانات یقیناً بڑھ سکتے ہیں۔ پنجاب میں صنعتی اور ہنرمندی کے مختلف پروگراموں کے ذریعے ایک لاکھ 62 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرنے، اربوں ڈالر کی معاشی سرگرمی اور نجی سرمایہ کاری لانے کے اہداف سامنے رکھے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ ان ملازمتوں کی نوعیت کیا ہوگی۔

اگر آنے والے سالوں میں پنجاب کے نوجوان صرف کم اجرت والی ملازمتوں کے بجائے انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، اے آئی ، زرعی ٹیکنالوجی، ڈیری سائنس، فوڈ پراسیسنگ اور برآمدی صنعتوں میں آگے بڑھتے ہیں تو یہ محض روزگار نہیں ہوگا بلکہ پنجاب کی معاشی ساخت میں تبدیلی ہوگی۔

چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی تاریخ کا ایک مضبوط باب ہیں۔ اب ضرورت اس باب کو ایک نئی معاشی زبان دینے کی ہے۔ پہلے دوستی کے ساتھ سڑکیں بنیں، توانائی کے منصوبے آئے اور سی پیک نے رابطے کا ایک نیا تصور دیا۔ اب اگلا مرحلہ شاید ڈیٹا، اے آئی، جدید زراعت، مینوفیکچرنگ، ڈیری، بگ ڈیٹا اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا ہو۔ مریم نواز شریف کے دورہ چین میں یہی مختلف دھارے ایک جگہ جمع ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

سنکیانگ میں زراعت اور لائیوسٹاک، ڈیری کمپنی میں جدید پراسیسنگ، گوئیژو میں بگ ڈیٹا، چینی کمپنیوں کے ساتھ سرمایہ کاری مذاکرات اور پنجاب کو مینوفیکچرنگ و ایکسپورٹ ہب بنانے کی پیشکش، بظاہر الگ الگ سرگرمیاں ہیں لیکن حقیقت میں ایک ہی معاشی تصور کے مختلف حصے ہیں۔ وہ تصور یہ ہے کہ پنجاب اپنی روایتی طاقتوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ کر نئی معاشی طاقت پیدا کرے۔ مریم نواز شریف کا چین میں یہ کہنا کہ پنجاب صرف ٹیکنالوجی کا صارف نہیں بلکہ اس کی تخلیق اور جدت میں برابر کا شراکت دار بننا چاہتا ہے، دراصل پورے دورے کا خلاصہ بھی ہے۔ کیونکہ اگر پنجاب صرف چینی مشینیں خریدے گا تو وہ ایک خریدار رہے گا۔

اگر پنجاب چینی کمپنیوں سے مشین چلانا سیکھے گا تو وہ ایک صارف بنے گا۔ اگر پنجاب چینی کمپنیوں کے ساتھ مل کر نئی مصنوعات تیار کرے گا، اپنے نوجوانوں کو تربیت دے گا، اپنی جامعات کو تحقیق سے جوڑے گا، اپنے کسان کو جدید ٹیکنالوجی دے گا، اپنا ڈیٹا خود استعمال کرے گا اور اپنی صنعت کو عالمی ویلیو چین کا حصہ بنائے گا تو پھر وہ واقعی شراکت دار بن جائے گا اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں پنجاب کی اگلی معاشی کہانی لکھی جا سکتی ہے۔سرکاری دورے ختم ہو جاتے ہیں، ملاقاتیں ختم ہو جاتی ہیں، تصاویر اخبارات میں شائع ہو جاتی ہیں اور وفود واپس آ جاتے ہیں۔ لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب دورے میں ہونے والی گفتگو فائلوں سے نکل کر زمین پر نظر آئے۔ اگر چین کے جدید زرعی ماڈلز پنجاب کے کسان تک پہنچتے ہیں، اگر پانی کی بچت والی ٹیکنالوجی کھیتوں تک پہنچتی ہے، اگر جدید ڈیری پراسیسنگ یونٹس قائم ہوتے ہیں، اگر چینی کمپنیوں کی پیداوار پنجاب منتقل ہوتی ہے، اگر نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت ملتی ہے، اگر بگ ڈیٹا حکومت کے فیصلوں کو بہتر بناتا ہے اور اگر مصنوعی ذہانت پنجاب کی معیشت کا حصہ بنتی ہے تو پھر یہ دورہ ایک کامیاب سرکاری دورے سے کہیں بڑھ کر ایک معاشی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

پنجاب کے پاس زمین ہے۔ پنجاب کے پاس مارکیٹ ہے۔ پنجاب کے پاس صنعت ہے۔ پنجاب کے پاس زراعت ہے۔ پنجاب کے پاس ایک بڑی نوجوان افرادی قوت ہے اور سب سے بڑھ کر پنجاب کے پاس ایک ایسا جغرافیائی محل وقوع ہے جو اسے پاکستان کے اندر ہی نہیں بلکہ خطے کی بڑی منڈیوں کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اب ضرورت صرف ان تمام قوتوں کو ایک سمت دینے کی ہے۔ مریم نواز شریف کے چین کے دورے کا سب سے بڑا پیغام شاید یہی ہے کہ اگلی معاشی دوڑ صرف وسائل کی نہیں، علم اور ٹیکنالوجی کی دوڑ ہے۔ اور اگر پنجاب نے اس دوڑ میں وقت پر قدم رکھ دیا تو آنے والے برسوں میں اسے صرف پاکستان کی فوڈ باسکٹ کے طور پر نہیں بلکہ مینوفیکچرنگ، ایکسپورٹ، ٹیکنالوجی، اے آئی، جدید زراعت اور ڈیجیٹل معیشت کے ایک بڑے علاقائی مرکز کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ چین نے اپنے تجربے سے ثابت کیا ہے کہ ترقی صرف خواب دیکھنے سے نہیں آتی، اس کے لئے سمت، منصوبہ بندی، ٹیکنالوجی اور مسلسل عمل درکار ہوتا ہے۔ اب پنجاب کے سامنے بھی یہی سوال ہے۔

کیا ہم ٹیکنالوجی کے خریدار رہیں گے یا اس کے تخلیق کار اور شراکت دار بنیں گے؟ مریم نواز شریف کا چین میں دیا گیا جواب واضح ہے "پنجاب صرف ٹیکنالوجی کا صارف نہیں، ٹیکنالوجی کی تخلیق اور جدت میں برابر کا شراکت دار بننا چاہتا ہے” اور شاید یہی سوچ پنجاب کے اگلے عشرے کی سب سے اہم کہانی بن سکتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Ceasefire Ceasefire
تازہ ترین5 گھنٹے ago

ایران کے خلاف جنگ کو طول دینا اب امریکا کے لیے ممکن نہیں رہا،امریکی فوجی قیادت

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی فوجی قیادت نے سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کو خبردار کردیا ہے کہ ایران کے خلاف...

field-marshal-asim-munir field-marshal-asim-munir
پاکستان5 گھنٹے ago

فیلڈ مارشل عاصم منیر سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے۔...

trump-iran-deal trump-iran-deal
تازہ ترین5 گھنٹے ago

امریکی صدر کا وینزویلا کے تیل سے اسٹریٹجک ذخائر بھرنے کا اعلان

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل سے اسٹریٹجک ذخائر بھرنے کا اعلان کردیا۔ سوشل...

israel-iran israel-iran
تازہ ترین5 گھنٹے ago

اسرائیل نے ایران پر ایک بار پھر حملے کی دھمکی دیدی

تل ابیب (صداۓ سچ نیوز) اسرائیل نے ایران پر ایک بار پھر حملے کی دھمکی دے دی۔ عالمی میڈیا کے...

Northern-Cyprus Northern-Cyprus
تازہ ترین5 گھنٹے ago

شمالی قبرص کے قریب کشتی الٹ گئی، 7 افراد ہلاک، 270 مسافر سوار تھے

بحیرۂ روم میں شمالی قبرص سے ترکیہ جانے والی مسافر کشتی الٹنے کے بعد بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری...

Nepal-Flood Nepal-Flood
تازہ ترین5 گھنٹے ago

نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد781 ہوگئی، 3 ہزار افرادلاپتا

کھٹمنڈو (صداۓ سچ نیوز) نیپال کے سرحدی علاقے میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 781 ہوگئی جب کہ 3...

iranian kazim ghareebabadi iranian kazim ghareebabadi
تازہ ترین5 گھنٹے ago

آبنائے ہرمز بدستور بند ہے، اگرکوئی جہاز یہاں سےگزرےگا تو ایران کی اجازت سے ہی گزرے گا، ایرانی نائب وزیرخارجہ

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نےکہا ہےکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری...

masooma e sindh masooma e sindh
پاکستان7 گھنٹے ago

اگھم کوٹ روضہ اطہر کے تعمیراتی کام میں سست روی پر تشویش، جلد تکمیل کا مطالبہ

حیدرآباد (صداۓ سچ نیوز) روضہ اطہر معصومہء سندھ اگھم کوٹ پر ایامِ عزا یعنی محرم الحرام کی آمد سے صرف...

Sajjad Hussain Bhatti Sajjad Hussain Bhatti
تازہ ترین7 گھنٹے ago

مریم نواز، چین اور پنجاب

تحریر ۔ سجاد حسین بھٹی کبھی کسی صوبے کی ترقی کا تصور بڑی سڑکوں، پلوں، کارخانوں اور بجلی کے منصوبوں...

russian-drone-attack-on-ukraine russian-drone-attack-on-ukraine
تازہ ترین15 گھنٹے ago

یوکرین پر روسی ڈرون حملے میں 37 شہری ہلاک، 42 زخمی

کیف (صداۓ سچ نیوز) یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی ڈرون حملے میں 37 شہری ہلاک اور 42 زخمی...

Trending