تازہ ترین
کتاب’’یاد آتے ہیں اب وہ بیراگی” پر تبصرہ
زوار عبدالستار درس کی 183 ویں تصنیف، فکر و اسلوب کا ایک نیا سفر
تحریر: سید منظر نقوی ،سیکریٹری جنرل، کراچی ایڈیٹرز کلب
کسی مصنف کے لیے ایک یا دو نہیں بلکہ 183 کتابیں تحریر کرنا محض ایک عددی اعزاز نہیں، بلکہ عمر بھر کے مطالعے، تحقیق، مشاہدے، عقیدت اور قلم سے مسلسل وابستگی کا پختہ ثبوت ہے۔ معروف مصنف، محقق اور مذہبی و تاریخی موضوعات پر گہری نظر رکھنے والے زوار عبدالستار درس کی تازہ تصنیف ’’یاد آتے ہیں اب وہ بیراگی‘‘ اسی طویل علمی و ادبی سفر کا ایک نیا اور منفرد پڑاؤ ہے۔
2026ء میں شائع ہونے والی یہ کتاب ان کی 183 ویں تصنیف ہے، مگر اسے ان کی گذشتہ کتابوں کے تسلسل میں محض ایک اور کتاب قرار دینا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہوگا، اس مرتبہ زوار عبدالستار درس ایک نئے طرزِ تحریر، تازہ فکری توانائی اور مختلف قوتِ اظہار کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ کتاب کے مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ ایک طویل علمی سفر کے بعد مصنف نے اپنے تجربات، مشاہدات، روحانی وابستگی اور تاریخی شعور کو مختصر اندازِ تحریر میں مگر زیادہ شخصی، تاثراتی اور ادبی انداز میں یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔
کتاب کے عنوان ’’یاد آتے ہیں اب وہ بیراگی‘‘ میں ہی یاد، فراق، روحانیت اور ماضی سے تعلق کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔ ’’بیراگی‘‘ یہاں محض دنیا سے بے نیازی اختیار کرنے والے شخص کا نام نہیں، بلکہ اس روحانی کیفیت کا استعارہ بن جاتا ہے جو انسان کو مادیت سے نکال کر محبت، معرفت، انسان دوستی اور حقیقت کی جستجو کی طرف لے جاتی ہے۔
اس کتاب کی اہمیت کوسمجھنے کے لیے مصنف کے گذشتہ علمی سفر کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ زوار عبدالستار درس نے اپنی طویل تصنیفی زندگی میں تصوف، تاریخ، مذہب اور اسلامی شخصیات سمیت مختلف موضوعات کو اپنے قلم کا محور بنایا ہے۔ خصوصاً شانِ اہلِ بیتؑ سے ان کی قلبی و علمی وابستگی ان کی متعدد تحریروں میں نمایاں رہی ہے۔ انہوں نے حضرت بی بی خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا زوجۂ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، حضرت ابو طالب علیہ السلام اور حضرت امیر حمزہ علیہ السلام سمیت عظیم اسلامی شخصیات کی حیات، خدمات اور مقام و مرتبے پر قلم اٹھانے کی جسارت کی ہے۔
ان کی تحریروں میں مذہبی عقیدت کے ساتھ تاریخی مواد کو عام قاری تک قابلِ فہم انداز میں پہنچانے کی کوشش نمایاں نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا قاری صرف مذہبی طبقے تک محدود نہیں رہتا بلکہ تاریخ، تصوف اور روحانی روایات سے دلچسپی رکھنے والے افراد بھی ان کی کتابوں سے استفادہ کرتے ہیں۔
ان کی تصانیف میں جس کتاب کو غیر معمولی عوامی پذیرائی حاصل ہوئی، وہ ’’معصومۂ سندھ بی بی ماہمؑ کے معجزات‘‘ ہے۔ اس کتاب نے زوار عبدالستار درس کی شناخت کو ایک ایسے مصنف کی حیثیت سے مزید مستحکم کیا جو سندھ کی مقامی مذہبی و روحانی روایت اور عقیدت سے وابستہ موضوعات کو تحریری صورت میں محفوظ کرنے کو اپنی علمی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
اسی طویل سفر کے بعد ’’یاد آتے ہیں اب وہ بیراگی‘‘ میں ان کا قلم ایک نسبتاً مختلف رنگ اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ سے ایک فکری و روحانی مکالمہ
زیرِ نظر کتاب کا ایک بنیادی حوالہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ اور سندھ کی صوفیانہ روایت ہے۔ مصنف، شاہ لطیفؒ کو صرف سندھی زبان کے ایک عظیم شاعر کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ ان کی فکر کو انسانیت کی اجتماعی روح، محبت، انسان دوستی، جدوجہد اور معرفت کے ایک بڑے استعارے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
کتاب میں تاریخ، روایت، تصوف اور ذاتی مشاہدات ایک دوسرے سے جڑتے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب روایتی معنوں میں نہ صرف تاریخ ہے، نہ صرف سوانح، نہ محض مذہبی یا صوفیانہ مطالعہ ہے بلکہ ان تمام عناصر کو ایک تاثراتی بیانیے میں سمو دیا گیا ہے۔
یہاں مصنف کا نیا اسلوب اور نئی writing power خاص طور پر محسوس ہوتی ہے۔ ماضی کی بہت سی تصانیف میں جہاں ان کا قلم مذہبی، تاریخی یا تحقیقی موضوع کے گرد مرتکز رہا، اس کتاب میں وہ واقعات، یادوں، شخصیات اور روحانی تجربات کو ایک ایسے بیانیے میں جوڑتے ہیں جس میں قاری مصنف کے ساتھ سفر کرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔
کتاب کی ایک اہم خوبی سندھ کو محض جغرافیائی خطے کے بجائے ایک تہذیبی اور روحانی تجربے کے طور پر دیکھنا ہے۔ سندھ کی پہچان اس کے صوفیوں، درویشوں، لوک داستانوں، درگاہوں، شاعری، محبت اور مذہبی و تہذیبی رواداری سے تشکیل پاتی ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ اسی تہذیبی شعور کے سب سے طاقتور نمائندوں میں شمار ہوتے ہیں۔
شاہ لطیفؒ کے ہاں سسئی، ماروی، مومل، نوری اور سوہنی جیسے کردار محض داستانوں کے کردار نہیں رہتے بلکہ انسانی عزم، وفا، محبت، وطن دوستی، قربانی اور منزل کی تلاش کی علامت بن جاتے ہیں۔
زوار عبدالستار درس کی تحریر اسی روح کو چھونے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ قاری کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ سندھ کی صوفیانہ روایت کا مطالعہ محض ماضی کا مطالعہ نہیں، بلکہ ہمارے موجودہ معاشرے کے لیے بھی ایک اہم فکری ضرورت ہے۔
زوار عبدالستار درس کی گذشتہ تصانیف میں تصوف ایک اہم موضوع رہا ہے اور یہی پس منظر اس کتاب میں بھی ان کی فکری سمت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
شاہ لطیفؒ کے حوالے سے ابھرنے والا تصوف دنیا سے فرار کا درس نہیں دیتا۔ یہ انسان کو محبت، برداشت، وفاداری، جدوجہد اور اپنے باطن کی شناخت کی دعوت دیتا ہے۔ شاہ لطیفؒ کے کردار منزل کے منتظر نہیں رہتے بلکہ منزل تک پہنچنے کے لیے صحرا، پہاڑ اور دریا عبور کرتے ہیں۔ یہی فکر آج کے معاشرے کے لیے شاید پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہے، جہاں مذہبی، سماجی، سیاسی اور لسانی تقسیم کے درمیان محبت، رواداری اور انسان دوستی کی آواز کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔
کتاب کا ایک قابلِ ذکر پہلو شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے منتخب کلام کا منظوم اردو ترجمہ بھی ہے۔ یوں شاہ لطیفؒ کا کلام ان قارئین تک بھی پہنچتا ہے جو سندھی زبان سے براہِ راست واقف نہیں۔
شاعری کا ترجمہ ہمیشہ ایک دشوار ترین ادبی عمل ہوتا ہے، کیونکہ الفاظ کا ترجمہ ممکن ہے مگر اصل زبان کے آہنگ، جذبے، تہذیبی پس منظر اور روحانی کیفیت کو دوسری زبان میں منتقل کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اس کے باوجود اس کتاب میں کی گئی یہ کوشش شاہ لطیفؒ کے پیغام کو وسیع تر اردو حلقۂ قارئین تک پہنچانے کے حوالے سے انتہائی اہم کوشش ہے۔
’’یاد آتے ہیں اب وہ بیراگی‘‘ کا سب سے دلچسپ پہلو شاید یہی ہے کہ 183 کتابیں لکھنے کے بعد بھی زوار عبدالستار درس کا قلم محض گذشتہ اسلوب کو دہراتا ہوا دکھائی نہیں دیتا بلکہ ان کی 183 ویں کتاب میں ایک نیا طرز، نئی روانی، زیادہ شخصی اظہار اور ایک نئی قوتِ تحریر محسوس ہوتی ہے۔ ایک ایسے مصنف کے لئے جس نے تصوف، شانِ اہلِ بیتؑ، اسلامی شخصیات، تاریخ اور مذہب جیسے وسیع موضوعات پر مسلسل لکھا ہو، اپنے قلم میں اس مرحلے پر بھی تازگی پیدا کرنا ایک مشکل ترین اور قابلِ ذکر ادبی کامیابی ہے۔
یہ کتاب اس لحاظ سے ان کے تصنیفی سفر میں ایک الگ مقام رکھتی ہے کہ اس میں محقق کے ساتھ ایک یادیں سمیٹنے والا انسان، سندھ سے محبت کرنے والا قلم کار اور روحانی روایت کا متلاشی بھی نمایاں ہوکر سامنے آتا ہے۔
’’یاد آتے ہیں اب وہ بیراگی‘‘ کو صرف شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ یا تصوف سے متعلق کتاب کہنا اس کے دائرۂ کار کو محدود کردے گا۔ یہ سندھ کی تہذیبی یادداشت، روحانی ورثے، شخصی مشاہدات، تاریخ اور صوفیانہ فکر کو ایک نئے ادبی اسلوب میں یکجا کرنے کی کوشش ہے۔
زوار عبدالستار درس کی 183 ویں تصنیف اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ مسلسل لکھنے والا قلم اگر اپنے عہد، اپنی مٹی اور اپنی روحانی و تہذیبی جڑوں سے وابستہ رہے تو 183 ویں کتاب میں بھی پہلی کتاب جیسی جستجو پیدا کرسکتا ہے۔
تصوف سے شانِ اہلِ بیتؑ تک، حضرت بی بی خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا سے حضرت ابو طالبؑ اور حضرت امیر حمزہؑ تک، تاریخ و مذہب سے ’’معصومۂ سندھ بی بی ماہمؑ کے معجزات‘‘ جیسی مقبول ترین تصنیف تک، زوار عبدالستار درس کا سفر خاصا وسیع تر ہے۔ ’’یاد آتے ہیں اب وہ بیراگی‘‘ اس سفر کا اختتام نہیں، بلکہ ان کے قلم کی ایک نئی جہت کا آغاز محسوس ہوتی ہے۔
-
برطانیہ اور یورپ6 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان6 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان8 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان7 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان11 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو11 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان7 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان6 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا

