تازہ ترین
مسلسل اسرائیلی جارحیت کے سبب دنیا کا امن ایک مرتبہ پھر دائو پر لگ گیا
تحریر :شمیم حیدر سید
لبنان پر اسرائیل جارحیت اور مستقل بمباری نے دنیا کا امن ایک مرتبہ پھر دائو پر لگا دیا ہے اور ایران نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ لبنان پر مزید بمباری سے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔غزہ فلسطین اور لبنان نے ہزاروں بے گناہ افراد کی شہادتیں اور شہروں کی تباہی دنیا بھر کے امن پسند اور مہذب ملکوں کے منہ پر ایک طماچہ ہے۔ حالیہ بھروت پر حملے سے تمام سُرخ لکیریں عبور ہو گئیں۔
ہمارا ایکشن محض ایک وارننگ ہے اگر اسی طرح جارحیت کی جاتی رہی تو ایران وسیع تر جوابی کارروائی کرے گا۔اس سلسلے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانس برطانیہ قطر ترکی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ سے رابطے قائم کیے ہیںاور کہا ہے کہ یہ مسئلہ ایران کا نہیں بلکہ انسانیت اور امت مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ہم اسرائیل کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کا تماشہ نہیں دیکھ سکتے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے باربار اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو تنبیہ کے باوجود وہ اب ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور شتر بے مہار بن کر اقوام متحدہ سے لے کر تمام امن پسند ممالک کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں اور دنیا کے امن اور معیشت کو تباہی سے دوچار کر رہے ہیںاور کسی بھی قسم کی مذمتوں کو خاطر میں نہیں لا رہے۔اس سبب سے اقوام متحدہ کا کردار بھی مشکوک ہوتا جا رہا ہے۔
دنیا کا یہ دوہرا معیار سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایران پر تو پابندیاں لگائی جائیں اور اسرائیل کو کھلی چھوٹ دی جائے اور اس کی مالی معاونت اور جدید اسلحے سے مدد بھی کی جائے۔آج اگر اقوام متحدہ اور دنیا کے ممالک اور امریکہ اسرائیل پر ایران کی طرح پابندیاں لگائیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اسرائیل اس طرح کھلے عام بربریت قتل عام اور جارحیت کا ارتکاب کرے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات، ثالثی کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ
پاکستان نے اس تمام صورتحال میں بھی اپنی سفارتی اور مصالحاتی کوششوں کو جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی پیغام لے کر ایک مرتبہ پھر ایران پہنچ گئے ہیں یہ پیغام رہبر اعلیٰ کیلئے ہے اس سے قبل وزیر داخلہ نے لاہور میں وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف سے ملاقات کی اور امریکہ ایران مذاکرات پر گفتگو کی۔
وزیر اعظم نے اس موقع پر محسن نقوی کو خصوصی ہدایات دیں۔پاکستان کیلئے یہ بھی بات باعث فخر ہے کہ تہران میں موجود چینی سفیر کانک پیوو نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان ایک بہترین اور قابل اعتماد ثالث ہے۔جنگی بندی کیلئے پاکستان کی مسلسل کوششیں قابل فخر ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے ترجمان نے حالیہ امریکی حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورز ی قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کشیدگی کوکم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور کشیدگی میں کمی نہ ہوئی تو اس کا ذمہ دار امریکہ ہو گا۔ہمیں امریکہ پر نہ پہلے بھروسہ تھا نہ اب ہے۔
جبکہ پاسدران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی سازشیں اسی طرح جاری رہی تو آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی تمام درآمدات کی بندش کا ذمہ دار امریکہ ہو گا۔ ہمارا ایمان تو یہ ہے کہ جو اپنی موت سے نہ ڈریں انہیں کوئی نہیں ڈرا سکتا ۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ میری تقرری کو دو سال کا عرصہ ہو چکا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ میں موجود رہوں یا نہ رہوں لیکن میں ایرانی قوم کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ پوری طاقت سے کھڑے رہیں اور کسی کے سامنے نہ جھکیں ایران پر ابھی بھی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور بزدل دشمن اپنی چالیں چل رہا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایرانی قوم شہادت کے جذبے سے سرشار ہے اور وہ کربلا سے درس لیتے ہوئے اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں ’’یہ درس کربلا کا ہے کہ خوف بس خدا کا ہے‘‘۔
امریکہ نے اپنے حواری اسرائیل کے ساتھ ملکر پوری طاقت کے ساتھ ایرانی حکومت کو جھکانے اور شکست دینے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے اور آج دنیا بھر میں ایرانی حکومت اور عوام کی یکجہتی ، ہمت اور حوصلے کی داد دی جارہی ہے جس نے ایک سپر پاور کے ناپاک عزائم کو شکست دے کر مذاکرات کی مذاکرات کی میز پر پہنچا دیا۔ایرانی ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس کے صدر پیوٹن نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کو داد دینے چاہیے کہ وہ اتنی مشکلات اور جدید ترین جنگی حالات کے باوجود بھی اندر سے تقسیم نہیں ہوا۔
میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ نہ روس نے ایران کو اسلحہ دیا ہے اور نہ ہی انہوں نے ہم سے مانگا ہے۔ایران نے جنگ بندی کیلئے کسی دبائو کو قبول نہیں کیا وہ ایک طاقتور اور غیور ملک ہے۔ عباس عراقچی نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کے سعودی عرب خطے کا ایک بڑا کھلاڑی اور اہم ملک ہے ۔ ایران نے ہمیشہ سعودی عرب سے تعلقات کو اہمیت دی ہے۔ ایران نہ صرف سعودی عرب کی عزت و احترام کرتا ہے بلکہ تعلقات کو اہمیت بھی دیتا ہے۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور دھمکیوں کا ایران پر کوئی اثر نہیں ہو رہا اور ایرانی قیادت اور پورے سکون کے ساتھ امریکہ مذاکراتی پیشکشوں کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے مطالبات کو منوانے پر مضر ہے۔اگر دیکھا جائے تو امریکہ نفسیاتی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔امریکہ دعویٰ کے ایران میں بہت زیادہ اختلافات موجود ہیںاور ان کی اعلیٰ قیادت کو مار دیا گیا ہے۔لیکن 34اعلیٰ فوجی افسر امریکہ نے تبدیل کیے اور اہداف سارے امریکہ کے ناکام ہوئے۔ان کا بیانیہ ہمیشہ یہ رہا کہ ایران ہار گیا ہے مگر اتفاق دیکھے کہ امریکہ میں ٹرمپ کے مواخذے کی باتیں ہو رہی ہیں اور امریکی سینٹ میں حالیہ شکست بھی ٹرمپ کی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:میلبورن میں علم، خدمت اور قومی وقار کی روشن شام
اُن کا یہ کہنا بھی عجیب سا لگتا ہے کہ پاسداران انقلاب اور ایرانی حکومت ایک پیج پر ہیں۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اہداف بھی سارے امریکہ کے ناکام ہوئے اور شکست بھی ایران کو ہوئی؟دنیا کو یہ باور کروایا جا رہا ہے امریکہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کو اپنی تہذیب پر بڑا مان ہے اور وہ کوئی بات نہیں مان رہا اور اگرا یران نے امریکہ کی بات نہ مانی تو اسے عبرتناک اور حیرت ناک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا مگر اب یہ ساری باتیں اور گیدڑ بھبھکیاں اپنی اہمیت کھوتی جا رہی ہیں ٹرمپ نے اپنے بیان میں خود اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ ایرانی حکومت زیادہ ہوشیار اور مشکل ہے۔
ایک دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکی و برطانوی صحافی مہدی حسن اور اسرائیلی فوج کے ترجمان نے آمنے سامنے ہو کر ایران کے جوہری پروگرام ، اسرائیل کی غیر اعلانیہ جوہری صلاحیتوں ، غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں اور دہشت گردی کے تاریخی بیانیوں اور دوہرے معیار پر گرما گرمی کی اور یہ مباحثہ سوشل پر وائرل ہو چکا ہے جس کو صارفین نے دہائی کی شدید ترین بحث قرار دیا ہے۔
بحث میں اسرائیل کی جانب سے بچوں کی ہلاکت اور جنگی بیانیے پر سخت بحث ، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اسرائیل کے کردار پر سوال اُٹھاتے ہوئے مہدی حسن نے سوال کیا کہ آخر ایک سالہ بچہ کیسے دہشت گرد ہو سکتا ہے اس کی ہلاکت پر آپ کو شرم نہیں آتی ہے جس پر اسرائیلی ترجمان نے مبہم جواب دیا کہ بچے کی ہلاکت بد قسمتی تھی وہ حذب اللہ کے ٹھکانے کے قریب تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر مشرق وسطی میں کسی کے پاس جوہری ہتھیار ہوں تو وہ اسرائیل ہے نہ کہ ایران۔انہوں نے تین سوالات اُٹھائے اول ۔
خطے میں واحد ملک جس نے نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی پر دستخط نہیں کیے وہ اسرائیل ہے۔دوم۔ واحد ریاست جس نے اقوام متحدہ کی قرارداد 487ــ’’1981‘‘ کی خلاف ورزی کی وہ بھی اسرائیل ہے اور سوئم گذشتہ سال واحد ملک جس نے چھ مختلف ممالک پر بمباری کی وہ بھی اسرائیل تھا انہوں نے کہا کہ عالمی عوامی رائے واضح ہے کہ اسرائیل خطے کے امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو پائے تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں میں تمام عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑا رہا ہے۔
-
پاکستان3 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان5 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان8 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

