پاکستان
بچوں کو تعلیم کی فراہمی کے آئینی عزم کے لیے ریاست کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے، آئی پی ایس
اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد تقریباً ۲ کروڑ ۱۱ لاکھ ہے، جو اس امر کی فوری متقاضی ہے کہ تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے اور تمام بچوں کو تعلیم تک رسائی یقینی بنانے کی ریاستی آئینی ذمہ داری پوری کی جائے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مسلسل پالیسی توجہ درکار ہے تاکہ بچوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جا سکے اور آئینی عزم کو مؤثر عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔
یہ بات انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد میں عالمی یوم خواندگی کے موقع پر ۸ ستمبر کو منعقدہ ایک نشست میں کہی گئی۔ نشست آئی پی ایس کی تعلیم اور انسانی ترقی سے متعلق کاوشوں کا حصہ تھی، جس میں اسکول سے باہر بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور انہیں تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کی ریاستی ذمہ داری پر خصوصی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
قابلِ اعتماد شماریاتی ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً ۲ کروڑ ۱۱ لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو ایک انتہائی تشویش ناک صورتِ حال ہے۔ یہ تخمینہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے اعداد و شمار اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پاپولیشن اسٹڈیز کے آبادی سے متعلق تخمینی اعداد و شمار کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔ اس چیلنج کی وسعت ملک کے آئینی وعدوں اور لاکھوں بچوں کو درپیش تعلیمی حقائق کے درمیان موجود نمایاں خلا کو واضح کرتی ہے۔
نشست میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل۲۵-اے کو بنیادی حوالہ بنایا گیا، جس کے تحت پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آئین کی یہ شق تعلیم کو محض ترقیاتی ہدف نہیں بلکہ ایسی ذمہ داری قرار دیتی ہے جس کی تکمیل کے لیے ریاست کو مؤثر ادارہ جاتی اور پالیسی اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔ نشست میں علم حاصل کرنے اور غور و مشاہدے اور معروضی استدلال کے ذریعے اس میں اضافے کی مذہبی ہدایت کا بھی حوالہ دیا گیا۔
شرکا نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف)ایس ڈی جی(، بالخصوص ایس ڈی جی ۴ کے تحت پاکستان کے بین الاقوامی تعلیمی عزم کو بھی اجاگر کیا، جس کا مقصد معیاری تعلیم اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع کی فراہمی ہے۔ آئینی اور بین الاقوامی وعدوں کا یہ امتزاج ریاست پر واضح ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ داخلہ بڑھانے، تعلیمی محرومی کم کرنے اور بچوں کے حقِ تعلیم سے استفادے کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر طریقۂ کار وضع کرے۔
شرکا نے زور دیا کہ اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے کا حل محض داخلوں کے اہداف مقرر کرنے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ان بنیادی اور ساختی عوامل پر مسلسل توجہ دینا ہوگی جو بچوں کو باقاعدہ تعلیمی نظام سے باہر رکھنے کا سبب بنتے ہیں، جبکہ پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ و تعاون بھی ضروری ہے۔
یہ نشست آئی پی ایس کی پاکستان کی سماجی ترقی اور عوامی پالیسی سے متعلق اہم مسائل پر وسیع تر علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ بچوں کی تعلیم کے حوالے سے اپنے کام کے ذریعے ادارہ باخبر پالیسی مباحث کو فروغ دینے اور ریاست کی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی تعلیمی فریم ورک کے تحت ملک کے وعدوں کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
-
برطانیہ اور یورپ6 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان6 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان8 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان6 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان11 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو11 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان7 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان6 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا

